جی ایس ایم اے نے موبائل منی صنعت سے متعلق اپنی رپورٹ 2026 جاری کر دی ہے، جس کے مطابق پاکستان موبائل منی اکاؤنٹس میں صنفی فرق کے حوالے سے دنیا میں سرفہرست ہے۔
پی سی بی نے متنازع ٹوئٹ پر نسیم شاہ پر 2 کروڑ روپےکا جرمانہ کردیا
رپورٹ کے مطابق موبائل منی اکاؤنٹ کی ملکیت کے حوالے سے پاکستان میں صنفی فرق 63 فیصد ہے، جبکہ بنگلادیش میں یہ فرق 49 فیصد اور بھارت میں 42 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پاکستان میں صرف 13 فیصد خواتین کے پاس موبائل منی اکاؤنٹ موجود ہے، جبکہ مردوں میں یہ شرح 35 فیصد ہے۔
جی ایس ایم اے کی رپورٹ کے مطابق دیہی علاقوں میں موبائل منی اکاؤنٹس سے متعلق صنفی فرق 74 فیصد ہے، جبکہ شہری علاقوں میں یہ فرق 42 فیصد ہے۔ پاکستان میں صرف 2 فیصد خواتین موبائل منی اکاؤنٹ کو مستقل بنیادوں پر استعمال کرتی ہیں، جبکہ بھارت میں یہ شرح 3 فیصد اور بنگلادیش میں 6 فیصد ہے۔ پاکستان میں 76 فیصد خواتین نقد رقم کو ترجیح دیتی ہیں، جبکہ مردوں میں یہ شرح 64 فیصد ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں تقریباً ایک تہائی خواتین کے پاس موبائل فون موجود نہیں ہیں۔ تاہم 2024 کے بعد خواتین کی موبائل ملکیت میں 10 پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے اور صنفی فرق 37 فیصد سے کم ہو کر 27 فیصد رہ گیا ہے۔ پاکستان میں 95 فیصد مرد موبائل فون رکھتے ہیں، جبکہ خواتین میں یہ شرح 68 فیصد ہے۔
مزید برآں 39 فیصد خواتین نے خاندانی مخالفت کو موبائل منی اکاؤنٹ کے استعمال میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالیاتی سہولیات تک رسائی میں نمایاں عدم مساوات برقرار ہے اور سماجی، تکنیکی اور تعلیمی عوامل اس صنفی فرق کی بڑی وجوہات ہیں۔