Gas Leakage Web ad 1

ایم زی فاؤنڈیشن: خدمت، شعور اور خودداری کی نئی صبح

​ حرفِ محتاط / ملک خالد ضمیر Email: kmzameer@gmail.com

0

Gas Leakage Web ad 2

فلاحی کام کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں، مگر ان کی اصل روح محض وقتی دستگیری نہیں بلکہ انسان کو خودداری اور اختیار کی روشنی عطا کرنا ہے۔ جہاں رشتوں کی حرارت زندہ ہو، جہاں اپنے، اپنوں کا سہارا بنتے ہوں، وہاں محرومیوں کے اندھیرے زیادہ دیر ٹھہر نہیں پاتے- وہیں امید کے چراغ جلتے ہیں اور ترقی کی راہیں خود بخود ہموار ہونے لگتی ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم خیرات کے لمحاتی سکون سے آگے بڑھ کر ایسے چراغ روشن کریں جو مستقل روشنی دیں- ایسی روشنی جو ہاتھ پھیلانے کے بجائے ہاتھوں کو ہنر دے، قدموں کو استحکام دے اور زندگی کو وقار عطا کرے۔
بوچھال کلاں کے مقامی ہال میں گزشتہ روز ایک سادہ مگر پُراثر تقریب نے اسی روشنی کی ایک جھلک دکھائی۔ یہ محفل دراصل اس دسترخوان کی اختتامی نشست تھی جو ماہِ رمضان کے آغاز سے جاری تھا اور روزانہ تقریباً دو سو افراد کے لیے افطاری کا اہتمام کیا جاتا رہا۔ بظاہر یہ چند لمحوں کی آسودگی کا سامان تھا، مگر اس کے پسِ پردہ ایک ایسی سوچ کارفرما تھی جو بھوک مٹانے سے بڑھ کر تقدیریں سنوارنے کا عزم رکھتی ہے- ایک ایسا وژن جو خیرات کو خودداری میں ڈھالنے کی تمنا لیے ہوئے ہے۔
تقریب کے روحِ رواں بریگیڈیئر محمد یونس تھے، جنہوں نے نہ صرف اس دسترخوان کی بنیاد رکھی بلکہ “ایم زی فاؤنڈیشن” کے قیام کا اعلان بھی کیا۔ ان کے الفاظ میں ایک سچائی کی گونج تھی، ایک درد کی جھلک اور ایک عزم کی حرارت:
کسی کو وقتی طور پر کھانا کھلا دینا نیکی ضرور ہے، مگر اسے اپنے قدموں پر کھڑا کر دینا اصل خدمت ہے۔
یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایک فکر، ایک راستہ اور ایک دعوتِ عمل ہے۔
یہی فکر اس فاؤنڈیشن کی بنیاد میں پیوست ہے۔ یہاں مدد کا مفہوم صرف ہاتھ تھامنا نہیں بلکہ راستہ دکھانا ہے؛ یہاں عطیہ صرف وقتی سہارا نہیں بلکہ مستقل استحکام کی صورت اختیار کرتا ہے۔ نوجوانوں کو ہنر سے آراستہ کرنا، انہیں تعلیم کے زیور سے سنوارنا اور صحت کی بنیادی سہولتوں سے بہرہ مند کرنا- یہ سب مل کر ایک ایسے معاشرے کی تصویر بناتے ہیں جہاں ہر فرد اپنی شناخت خود تراشتا ہے۔ دیہات کی خاموش گلیوں میں جہاں امکانات اکثر خواب بن کر رہ جاتے ہیں، وہاں ایسی کاوشیں حقیقت کا روپ دھارنے لگتی ہیں۔
تقریب میں شریک اہلِ علم و دانش نے بھی اسی پیغام کو آگے بڑھایا۔ ڈاکٹر اکرام الحق نے نظامت کے فرائض نہایت وقار سے انجام دیے، جبکہ پروفیسر محمد الطاف اور ملک خالد ضمیر نے اپنے خیالات کے ذریعے شعور کی شمع کو مزید روشن کیا۔ ان کی گفتگو میں ایک ہی صدا تھی- معاشرہ تبھی سنورتا ہے جب افراد کو سہارا نہیں، راستہ دیا جائے، جب انہیں سنبھالا نہیں بلکہ سنبھلنا سکھایا جائے۔
بوچھال کلاں اور اس کے نواحی علاقے، جنہیں ایک طرف فوجی خدمات کے حوالے سے نمایاں مقام حاصل ہے، وہیں فلاحی کاموں کے میدان میں بھی اپنی ایک پہچان رکھتے ہیں۔ بابا مہدی خان اور سیٹھ عباس جیسے نام آج بھی خدمت کے استعارے بن کر زندہ ہیں۔ مگر وقت کے ساتھ ایک خلا بھی جنم لیتا گیا، جب کئی بااثر شخصیات اپنی جڑوں سے کٹ کر دور جا بسیں۔
ایسے میں بریگیڈیئر یونس کا اپنے گاؤں میں قیام، لوگوں سے جڑے رہنا اور اب ایک باقاعدہ فلاحی ادارے کی بنیاد رکھنا، اس خلا کو پُر کرنے کی ایک روشن کوشش ہے- ایک ایسا چراغ جو دوسروں کے لیے بھی راستہ روشن کر سکتا ہے۔ یہ نہ صرف ان کی ذاتی وابستگی کا ثبوت ہے بلکہ دیگر صاحبِ حیثیت افراد کے لیے بھی ایک پیغام ہے کہ اصل پہچان اپنی مٹی اور اپنے لوگوں سے جڑے رہنے میں ہے۔

تقریب کا ایک دل کو چھو لینے والا لمحہ وہ تھا جب ملک خالد ضمیر نے میڈیکل سنٹر کے قیام کے لیے ایک کنال زمین دینے کا اعلان کیا۔ یہ محض زمین کا عطیہ نہیں تھا بلکہ اعتماد، خلوص اور اجتماعی ذمہ داری کا اظہار تھا- یہ اس بات کی دلیل تھی کہ جب نیت صاف ہو تو دل خود بخود جڑنے لگتے ہیں۔
ایم زی فاؤنڈیشن کے خواب بھی عام نہیں- چوبیس گھنٹے مفت میڈیکل سنٹر، ڈائیلاسز یونٹ، سکلز بیس تعلیم اور بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کے مواقع۔ اگر یہ خواب تعبیر پا گئے تو یہ صرف ایک گاؤں نہیں بلکہ ایک پورے خطے کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔
یہ تقریب دراصل اختتام نہیں، ایک آغاز تھی – ایک ایسے سفر کا آغاز جس میں بھوک کے بجائے خودداری، محتاجی کے بجائے اختیار اور بے بسی کے بجائے وقار کو منزل بنایا گیا ہے۔ یہ پیغام ہے کہ خدمت صرف دینا نہیں، جگانا بھی ہے؛ اور اصل کامیابی اسی میں ہے کہ انسان خود اپنے قدموں پر کھڑا ہو کر زندگی کی راہوں پر آگے بڑھ سکے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.