پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد فی لیٹر قیمت 322 روپے سے زیادہ ہو گئی ہے، جس سے یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ ایک لیٹر پیٹرول کی اصل لاگت کتنی ہے اور حکومت کو اس میں سے کتنی آمدنی ہوتی ہے۔
پختونخوا: سرکاری محکموں کی میٹنگز 100 فیصد ورچوئل ہونگی، 50 فیصد ورک فرام ہوم نافذ کرنے کا فیصلہ
اعداد و شمار کے مطابق ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت میں درج ذیل مدات شامل ہیں:
– حکومت کا ٹیکس اور لیوی: تقریباً 95 روپے فی لیٹر (جس میں 78 روپے پٹرولیم لیوی، 14 روپے کسٹم ڈیوٹی اور 2.5 روپے کلائمیٹ یا کاربن لیوی شامل ہے)
– آئل مارکیٹنگ کمپنی مارجن: تقریباً 7.87 روپے
– پیٹرول پمپ ڈیلر کمیشن: تقریباً 8.64 روپے
– ترسیلی اخراجات (ان لینڈ فریٹ مارجن): تقریباً 8 سے 10 روپے
پاکستان میں پیٹرول کی یومیہ فروخت تقریباً 21 ہزار میٹرک ٹن ہے، جو تقریباً 27 ملین لیٹر بنتی ہے۔ اس حساب سے اگر حکومت فی لیٹر 95 روپے وصول کرے تو اس کی یومیہ آمدنی تقریباً 2 ارب 56 کروڑ روپے اور سالانہ آمدنی تقریباً 930 ارب روپے بنتی ہے۔