امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مجتبیٰ خامنہ ای کی ایران کے نئے سپریم لیڈر کے طور پر نامزدگی پر ملا جلا ردعمل ظاہر کیا ہے۔
ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے اس حوالے سے کوئی واضح موقف اختیار نہیں کیا اور کہا کہ "دیکھیں گے کیا ہوتا ہے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ ختم کرنے کا فیصلہ وہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ اتفاق رائے سے کریں گے اور درست وقت پر کریں گے ۔
ایرانی پاسداران انقلاب کا 4 امریکی میزائل شکن دفاعی ریڈار تباہ کرنے کا دعویٰ
دوسری جانب ٹرمپ کے قریبی ساتھی سینیٹر لنزے گراہم نے مجتبیٰ خامنہ ای کو سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ "ان کا انجام بھی وہی ہوگا جو والد کا ہوا” ۔
واضح رہے کہ ایرانی مجلس خبرگان نے آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر نامزد کر دیا ہے۔ مجلس خبرگان نے قوم سے اتحاد برقرار رکھنے اور نئے سپریم لیڈر سے وفاداری کا عہد کرنے کی اپیل کی ہے ۔
مجتبیٰ خامنہ ای 56 سالہ عالم دین ہیں جو کبھی کسی سرکاری عہدے کے لیے منتخب نہیں ہوئے تاہم وہ کئی دہائیوں سے سپریم لیڈر کے قریبی حلقے میں بااثر شخصیت سمجھے جاتے رہے ہیں اور ان کے پاسداران انقلاب کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں ۔