برطانیہ سے بڑی خبر: نوجوانوں کی زندگیاں تباہ کرنے والے قانون کے شکنجے میں آ گئے۔
لندن: جیلوں میں ڈرون کے ذریعے منشیات اور موبائل فون اسمگل کرنے والے گینگ کو مجموعی طور پر 22 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔
امریکا اور اسرائیل نے اقوام متحدہ کو اعتماد میں لیے بغیر حملہ کیا، کینیڈین وزیراعظم
لندن میں جیلوں کے اندر ڈرون کے ذریعے منشیات اور موبائل فون اسمگل کرنے والے ایک منظم گروہ کو مجموعی طور پر 22 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ یہ سزائیں میٹروپولیٹن پولیس کی تحقیقات کے بعد سنائی گئیں۔
پولیس کے مطابق یہ گروہ انتہائی سرگرم تھا اور حکام کا ماننا ہے کہ جرائم کے دوران لندن کی مختلف جیلوں میں ہونے والی ڈرون ڈراپس کی اکثریت اسی گینگ کی کارستانی تھی۔ اسمگل کیا جانے والا سامان جیلوں میں تشدد کو فروغ دیتا اور عملے و قیدیوں کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن رہا تھا۔
میٹروپولیٹن پولیس کے اسپیشلسٹ کرائم یونٹ نے دسمبر 2025 میں خفیہ اطلاع ملنے پر ڈرون ڈراپس کی تحقیقات کا آغاز کیا۔ پولیس نے ایچ ایم جیل سروس کے ساتھ مل کر شواہد اکٹھے کیے اور ذمہ دار گروہ کی شناخت کی۔ تین ماہ کے اندر ملزمان کو گرفتار کر کے فرد جرم عائد کر دی گئی۔
تحقیقات کے دوران جیلوں کے باہر نگرانی، فون ڈیٹا کا تجزیہ (جس سے ملزمان کی جیلوں کے قریب موجودگی ثابت ہوئی) اور برآمد شدہ ڈرونز کا فلائٹ ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کر کے جانچ پڑتال شامل تھی۔
ان شواہد کی بنیاد پر سات افراد پر مشتمل ٹیم کی شناخت کی گئی، جن میں ڈرون پائلٹس، شریک پائلٹس، ٹیکسی ڈرائیورز اور نگرانی کرنے والے شامل تھے۔ ملزمان کا خیال تھا کہ وہ ڈرائیور بار بار تبدیل کر کے اور رات کے اوقات میں کارروائیاں کر کے پولیس سے بچ نکلیں گے، تاہم اسپیشلسٹ افسران ان کی مسلسل نگرانی کر رہے تھے۔ تین ماہ میں 50 سے زائد ڈرون ڈراپس کی نشاندہی کی گئی۔
پولیس نے اس وقت کارروائی کا فیصلہ کیا جب یہ ثابت ہو گیا کہ ڈرون کے ذریعے ممنوعہ اشیاء جیلوں میں پہنچائی جا رہی ہیں، جس سے خطرات میں نمایاں اضافہ ہو رہا تھا۔
26 فروری 2025 کی علی الصبح پولیس نے چار ملزمان کو ایچ ایم پی نارویچ سے ایک میل سے بھی کم فاصلے پر گرفتار کیا۔ گاڑی کی تلاشی کے دوران ایک چاقو، ایک ڈرون اور بھنگ برآمد ہوئی۔
گینگ نے جن جیلوں کو نشانہ بنایا ان میں ایچ ایم پی ورم ووڈ اسکربز، ایچ ایم پریکسن، ایچ ایم پینٹنویل، ایچ ایم پی وینڈزورتھ، ایچ ایم پی نارویچ، ایچ ایم پی لیسٹر، ایچ ایم پی اونلی اور ایچ ایم پی بیڈفورڈ شامل ہیں۔
اسمگل کیے گئے پیکجوں میں کلاس بی منشیات، موبائل فون، چارجرز اور سم کارڈز شامل تھے۔
گروہ کے تمام ملزمان نے پہلے کی سماعتوں میں درج ذیل الزامات قبول کیے:
جیل میں لسٹ اے اشیاء پہنچانے کی سازش
جیل میں لسٹ بی اشیاء پہنچانے کی سازش
کلاس بی کنٹرولڈ ڈرگز کی سپلائی کی سازش
کلاس سی کنٹرولڈ ڈرگز کی سپلائی کی سازش
منگل 3 مارچ کو ہیرو کراؤن کورٹ میں ملزمان کو سزائیں سنائی گئیں:
شفقت اللہ محسنی (29 سال) کو مرکزی کردار ادا کرنے پر 5 سال 3 ماہ قید
حاشن الحسینی (28 سال) کو 2 سال 9 ماہ قید
محمد حمود (22 سال) کو 2 سال 9 ماہ قید
فیض صلاح (29 سال) کو 2 سال 7 ماہ قید
زہر اساغی (51 سال) کو 2 سال 9 ماہ قید
مصطفیٰ ابراہیم (30 سال) کو 2 سال 6 ماہ قید
ایمانویل فسینکو (25 سال) کو 2 سال 3 ماہ قید
پولیس حکام کے مطابق یہ کارروائی جیلوں کی سیکیورٹی کو محفوظ بنانے اور قیدیوں و عملے کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اہم پیش رفت ہے۔