Gas Leakage Web ad 1

ایران پر حملہ: عالمی طاقتوں کی شطرنج اور پاکستان کی نازک حیثیت

عابد رشید

0

ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کہ حالیہ کارروائیوں پر اگر یہ کہا جائے کہ اس جنگ کی منصوبہ بندی 1974 میں لاہور میں ہونے والی پہلی اسلامی سربراہ کانفرنس کے بعد ہی شروع ہو گئی تھی مگر اسے مہمیز 1998 میں پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے کے بعد ملی تو یہ بظاہر ایک چونکا دینے والا دعویٰ محسوس ہوگا مگر اگر اسے جذباتی ردِعمل کے بجائے ایک فکری مفروضہ مان کر پڑھا جائے تو یہ ہمیں تاریخ کے ان بند دریچوں تک لے جاتا ہے جہاں فیصلے لمحوں میں نہیں، دہائیوں میں پنپتے ہیں۔ دنیا اس وقت جن دھماکوں، بیانات اور عسکری حرکات کو دیکھ رہی ہے یہ محض موجودہ لمحے کا شور نہیں بلکہ ایک طویل اور پیچیدہ عالمی عمل کی بازگشت ہے۔ ایران پر حملے ہوں یا ان کے جواب میں آنے والا ردِعمل…. انہیں صرف وقتی فوجی جھڑپ کہنا حقیقت کو سطحی بنانے کے مترادف ہے۔ یہ واقعات عالمی نظام کے اندر جاری اس کشمکش کو بے نقاب کرتے ہیں جو طاقت، خوف اور بالادستی کے نئے توازن کو جنم دے رہی ہے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کوئی اچانک پیدا ہونے والا طوفان نہیں بلکہ برسوں سے جمع ہوتے بادلوں کا نتیجہ ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب یہ کشمکش زیادہ عیاں، زیادہ بے باک اور زیادہ خطرناک صورت اختیار کر چکی ہے۔ یہ مکمل جنگ سے زیادہ اسٹریٹجک پیغام رسانی کا کھیل معلوم ہوتی ہے جہاں ہر فریق میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے یہ واضح کرنا چاہتا ہے کہ اس کی سرخ لکیریں کہاں کھینچی گئی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب پیغامات بارود میں لپٹے ہوں تو ایک معمولی غلط فہمی بھی بڑے تصادم میں بدل جاتی ہے۔ تاریخ بارہا یہ سبق دیتی ہے کہ جنگیں اکثر ارادوں سے زیادہ غلط اندازوں سے شروع ہوتی ہیں جو طاقت کو فہم پر فوقیت د ینے کا نتیجہ ہوتے ہیں اور بعض اوقات ایسی غلطیوں پر پچھتانے کا وقت بھی نہیں ملتا۔
مشرق وسطی کا یہ بحران ایک اور بنیادی حقیقت کو بھی بے نقاب کرتا ہے کہ دنیا اب کسی ایک طاقت کے واضح کنٹرول میں نہیں رہی۔امریکہ کی توجہ بیک وقت کئی محاذوں پر بٹی ہے…. یورپ اپنی سلامتی کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہے جبکہ چین اور روس متبادل عالمی ڈھانچوں کی تشکیل میں مصروف دکھائی دیتے ہیں…. عالمی نظام ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں طاقت تقسیم ہو گئی ہے اور نظم و ضبط اور قاعدے قانون اپنی اہمیت کھو چکے ہیں۔جب ایسی صورتحال ہوتو علاقائی تنازعات زیادہ خطرناک رخ اختیار کر لیتے ہیں…. اس خلا میں تاریخ، یادداشت اور خوف مل کر سیاست کی ایک نئی زبان تراشتے ہیں….ایک ایسی زبان جس سے اکثر تصادم جنم لیتا ہے اور مکالمہ دم توڑ دیتا ہے۔
اگر ہم 1974 کی اسلامی سربراہی کانفرنس کی طرف پلٹ کر دیکھیں تو یہ محض ایک سفارتی اجتماع نہیں بلکہ ایک علامتی لمحہ تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب مسلم دنیا نے پہلی بار اجتماعی وقار کے ساتھ اپنی موجودگی کا اعلان کیا۔ اس اعلان نے اُمید بھی پیدا کی اور اندیشوں کو بھی جنم دیا۔ امید اُن کے لئے جو ایک خودمختار اسلامی بیانیہ دیکھنا چاہتے تھے اور اندیشہ اُن کے لئے جو عالمی طاقت کے توازن کو ہر حال میں برقرار رکھنا چاہتے تھے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں بعض تجزیہ کار یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا اسی اجتماع کے بعد مسلم دنیا کو منتشر رکھنے کی منظم کوششوں میں تیزی آئی؟ …. تو جناب…. طاقتور نظام اکثر براہِ راست تصادم کے بجائے وقت، تقسیم اور اندرونی کمزوریوں کو ہتھیار بناتے ہیں اور یہی ہوا….!
اس کانفرنس میں شریک کئی سربراہانِ مملکت کا انجام دیکھئے….شاہ فیصل سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو تک اور بعد ازاں صدام حسین سے معمر قزافی تک خطے کی کئی طاقتور شخصیات کا انجام بظاہر ایک فرد کا انجام تھا لیکن اس میں ایک ” چتاﺅنی “ چھپی تھی۔ قیاس اور ثبوت کے فرق کو قائم رکھنا دانشورانہ دیانت کا تقاضا ہے مگر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیائی خطہ میں طاقت کی سیاست نے بارہا ایسے واقعات کو جنم دیا جہاں تبدیلیاں عوامی خواہش سے کم اور عالمی مفاد سے زیادہ جڑی دکھائی دیتی ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ خاموش نہیں رہتی بلکہ سوال اٹھاتی ہے۔
اس کھیل کا دوسرا مرحلہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی پسند کی حکومتوں کو اقتدار میں لانے سے جڑا رہا۔ کہیں خانہ جنگی کے شعلے بھڑکائے گئے…. کہیں اصلاحات کے نام پر طاقت کی ازسرِنو تقسیم ہوئی اور کہیں سلامتی کے وعدوں کے عوض خودمختاری کی قیمت وصول کی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج خطے میں کئی ریاستیں بظاہر مضبوط مگر اندر سے کھوکھلی دکھائی دیتی ہیں جن کی فیصلہ سازی اکثر عوامی مفاد کے بجائے بیرونی توازن کی اسیر ہے۔ اس منظرنامے میں ایران اس لئے منفرد نظر آتا ہے کہ وہ کھلے عام مزاحمت کا بیانیہ رکھتا ہے اور اسی بیانیہ نے اسے دباو، پابندیوں اور عسکری دھمکیوں کا مستقل ہدف بنایا۔
پاکستان براہِ راست اس تنازع کا فریق تو نہیں مگر عالمی سیاست میں اثرات سرحدوں کے محتاج نہیں ہوتے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی منڈیوں میں بے یقینی اور سپلائی چین میں خلل جیسی تبدیلیاں سب سے پہلے کمزور معیشتوں کو نشانہ بناتی ہیں۔ ایک ایسی معیشت جو پہلے ہی دباومیں ہو اس کےلئے بیرونی جھٹکوں کو جذب کرنا نہایت دشوار ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہونے کے باعث علامتی اہمیت بھی رکھتا ہے….ایک ایسی علامت جو کسی کیلئے توازن اور کسی کیلئے خطرہ سمجھی جاتی ہے۔
سفارتی محاذ پر صورتحال اور بھی پیچیدہ ہے۔ ایران ہمسایہ ہے، خلیجی ممالک معاشی شراکت دار ہیں اور مغربی دنیا نے دھائیوں سے عالمی مالیاتی نظام کی کنجی اپنے ہاتھ میں رکھی ہے۔ ایسے حالات میں غیر جانبداری کو اگر ایک فعال، محتاط اور دوراندیش حکمتِ عملی میں نہ ڈھالا جائے تو یہ محض ایک نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔ غلط سمت میں رکھا گیا ایک قدم نہ صرف خارجہ پالیسی بلکہ اندرونی استحکام کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ علاقائی جنگیں اکثر سرحدوں سے زیادہ معاشروں کے اندر اثر ڈالتی ہیں جہاں فرقہ وارانہ جذبات، پراکسی بیانیے اور سیاسی عدم برداشت کو ہوا ملتی ہے اور یہی وہ آگ ہے جو دیر تک سلگتی رہتی ہے….پاکستان میں بھی باوجود کوششوں کے یہ آگ سلگ رہی ہے۔
حالیہ برسوں میں جنوبی ایشیا کو اسی بڑی بساط پر ایک مہرے کے طور پر دیکھا گیا۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو مبصرین ایک ”ٹیسٹر“ کے طور پر دیکھتے ہیں…. جس سے دفاعی صلاحیت، ردِعمل اور سفارتی حمایت کا اندازہ لگانا مقصودتھا۔پاکستان کی جانب سے دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ کیا اور بھر پور کیا مگر اسلامی دنیا محض بیانات تک محدود رہی ۔
چین ایک ایسا عنصر ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا مگر اس کی حکمتِ عملی عموماً محتاط اور طویل المدت ہوتی ہے۔ دوسری طرف افغانستان اور ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات، تاریخ کے بوجھ تلے دبے ہونے کے باوجود جغرافیائی تقاضوں سے بندھے ہیں۔ اگر علاقائی صف بندی کو کمزور کرنا مقصود ہو تو ہمسایوں کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنا ایک آزمودہ حربہ ہے کیونکہ منتشر پڑوس کسی بھی ملک کو تنہا کر دیتا ہے….اور ایسا افغانستان پرحالیہ حملوں کی صورت ہوا بھی….!
ان تمام پرتوں کے نیچے ایک بنیادی سوال بھی ہے…. کیا غیر اسلامی طاقتوں کی سازش ہی سب کچھ ہے یا مسلم دنیا کی داخلی کمزوریاں بھی اس داستان کا حصہ ہیں؟ ہمیں ان دونوں پہلوﺅں کو دیانت کے ساتھ دیکھنا ہوگا۔ بیرونی دباو اپنی جگہ مگر داخلی تقسیم، معاشی کمزوری اور ادارہ جاتی عدم استحکام وہ دراڑیں ہیں جن سے دباو اندر داخل ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مضبوط معاشرے بیرونی سازشوں کے باوجود کھڑے رہتے ہیں جبکہ کمزور معاشرے معمولی جھٹکوں سے بکھر جاتے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ پھیلتی ہے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم اس غیر یقینی عالمی ماحول میں اپنے فیصلوں پر کس حد تک قابو رکھتے ہیں۔ آج کی دنیا میں طاقت کا پیمانہ صرف عسکری صلاحیت نہیں بلکہ معاشی مضبوطی، داخلی ہم آہنگی اور سفارتی بصیرت ہے۔ قومیں وہی محفوظ رہتی ہیں جو جذبات کے بجائے فہم اور ردِعمل کے بجائے دوراندیشی کو ترجیح دیتی ہیں۔ وہ لمحہ ہے جب ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جنگیں بے شک کسی بھی سرزمین پر لڑی جائیں مگر ان کے نتائج ہر اس ملک کے دروازے پر دستک دیتے ہیں جو کمزور تیاری اور مبہم سمت کا شکار ہو….اور تاریخ اگر کچھ سکھاتی ہے تو یہی کہ سمت کا تعین ہمیشہ شور میں نہیں بلکہ خاموشی میں کیا جاتا ہے۔ ان حالات میں اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی بڑی کارروائی سے قبل اس کے ممکنہ اور متوقع حامیوں کو غیر موثر بنانا ایک منطقی اسٹریٹجک ہدف ہے۔ شطرنج کے کھیل میں براہِ راست حملہ ہمیشہ آخری چال ہوتی ہے…. اس سے پہلے حریف کے ارد گرد موجود مہروں کو ہٹایا جاتا ہے تاکہ مزاحمت کی گنجائش کم سے کم رہ جائے۔ اسی تناظر میں اگر ریاستہائے متحدہ اور اسرائیل ایران میں اپنی پسند کی حکومت لانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو خطے کی تزویراتی صورتِ حال یکسر تبدیل ہو سکتی ہے۔ ایک ایسا ایران جو مزاحمت کے بجائے مفاہمت کی راہ پر ڈال دیا جائے نہ صرف خود دباو سے نکل جائے گا بلکہ اس کے ذریعے پاکستان کے گرد علاقائی گھیرا بھی کہیں زیادہ موثر بنایا جا سکے گا۔ اسرائیل کےلئے ایران کی جغرافیائی اور انٹیلی جنس اہمیت کو معاشی بحران سے دوچار پاکستان کے خلاف استعمال کرنا بھی نسبتاً آسان ہو جائے گا ۔
بلاشبہ پاکستان کو سب سے بڑا براہِ راست خطرہ بھارت سے ہے اور یہ حقیقت بھی اب کسی پردے میں نہیں کہ موجودہ بھارتی قیادت اسرائیل کے ساتھ قریبی اسٹریٹجک تعلقات رکھتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، انٹیلی جنس شیئرنگ اور بیانیاتی ہم آہنگی اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحانہ منصوبے پر فکری ہم آہنگی پہلے سے موجود ہے۔ تاہم اس کے باوجود بھارت کو براہِ راست ایک مکمل جنگ میں جھونکنا امریکہ اور نہ ہی اسرائیل کے طویل المدت مفاد میں ہے…. کیونکہ دوسری طرف مقابلے میں چین ہے…. وجہ محض عسکری نہیں بلکہ معاشی ہے۔بھارت ایک ابھرتی ہوئی منڈی ہے….صارفین کا ایک وسیع سمندر…. جس میں مغربی سرمایہ، ٹیکنالوجی اور منافع کے بے شمار امکانات پنہاں ہیں…. جنگ کی صورت میں اس منڈی کی تباہی ان طاقتوں کو ان معاشی ثمرات سے محروم کر دے گی جن کے لئے وہ دہائیوں سے سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔
چنانچہ زیادہ قرین قیاس حکمتِ عملی یہ محسوس ہوتی ہے کہ بھارت کو ایک براہِ راست محاذ کے بجائے ایک دباو کے آلے کے طور پر استعمال کیا جائے….ایک ایسا آلہ جو سرحدی کشیدگی، محدود کارروائیوں اور سفارتی دباوکے ذریعے پاکستان کو مستقل دفاعی کیفیت میں رکھے مگر مکمل جنگ کی آگ کو بھڑکنے نہ دے۔ اس حکمتِ عملی میں اصل کھیل پردے کے پیچھے کھیلا جاتا ہے جہاں پابندیاں، سفارتی تنہائی، معاشی کمزوری اور علاقائی عدم استحکام مل کر وہ کام کر جاتے ہیں جو توپ و تفنگ سے ممکن نہیں ہوتا۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں پاکستان کےلئے خطرات کی نوعیت کو صرف فوجی زاویے سے دیکھنا ناکافی ہو جاتا ہے۔ اصل خطرہ ایک ایسے گھیراو میں ہے جو بیک وقت معاشی، سفارتی اور علاقائی سطح پر تشکیل دیا جائے۔ اگر ایران، افغانستان یا دیگر قریبی ممالک کے ساتھ تعلقات میں دراڑیں پڑتی ہیں تو یہ محض دو طرفہ اختلافات نہیں رہتے بلکہ ایک وسیع تر اسٹریٹجک خلا میں بدل جاتے ہیں۔ طاقت کی سیاست میں تنہائی سب سے مہنگی کمزوری ہوتی ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ بڑی جنگوں سے پہلے اکثر یہی تنہائی خاموشی سے تیار کی جاتی ہے۔
اس پس منظر میں پاکستان کےلئے سب سے اہم چیلنج یہ نہیں کہ کون اس کے خلاف سازش کر رہا ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ خود کس حد تک داخلی استحکام، علاقائی ہم آہنگی اور معاشی خودمختاری پیدا کر پاتا ہے کیونکہ عالمی سیاست کے اس سرد اور حسابی کھیل میں وہی ریاستیں محفوظ رہتی ہیں جو محض دشمن کی نیت پر نظر نہیں رکھتیں بلکہ اپنی کمزوریوں کو بھی اتنی ہی سنجیدگی سے پہچانتی اور درست کرتی ہیں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.