سپریم کورٹ نے آنکھ کے علاج کے لیے اڈیالہ جیل سے نجی اسپتال منتقل کرنے اور دوران علاج اہل خانہ کے ساتھ ذاتی معالجین تک رسائی دینے کی پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی جانب سے دائر درخواست اعتراضات لگا کر واپس کر دی۔
خیبرپختونخوا: پولیس تھانوں اور چوکیوں پر حملے ناکام، جوابی کارروائی میں دہشتگرد فرار
سپریم کورٹ آف پاکستان میں یہ درخواست بانی پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ کی جانب سے گزشتہ روز دائر کی گئی تھی جس پر رجسٹرار آفس نے دو اعتراضات عائد کیے۔ رجسٹرار آفس نے درخواست پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کو طبی علاج سے متعلق شکایت کی صورت میں متعلقہ قانونی فورم سے رجوع کرنا چاہیے۔
اعتراضات میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے توشہ خانہ فوجداری کیس میں 12 فروری کو حکم جاری کیا تھا جس کے مطابق فوجداری مقدمے کی اپیل ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے اور اگر درخواست گزار کو کسی قسم کی شکایت ہو تو وہ اسی فورم سے رجوع کرے جہاں کیس زیر سماعت ہے۔
رجسٹرار آفس نے مزید کہا کہ درخواست سپریم کورٹ رولز 2025 کے تحت ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کے بغیر دائر کی گئی تھی جس کی وجہ سے اسے قابل سماعت نہیں سمجھا گیا، اس لیے درخواست کو اعتراضات کے ساتھ واپس کر دیا گیا۔