گوجرخان میں خاتون کے قتل کا معمہ حل، ٹک ٹاک پر دوستی کرنے والے نوجوان نے اپنے دوست کے ساتھ مل کر گلہ دبا کر قتل کیا

گوجرخان میں خاتون کے قتل کا معمہ حل، ٹک ٹاک پر دوستی کرنے والے نوجوان نے اپنے دوست کے ساتھ مل کر گلہ دبا کر قتل کیا

0

گوجرخان: گوجرخان کے نجی سکول کے سامنے سے ملنے والی خاتون کے قتل کا معمہ حل ہو گیا۔ قاتل خاتون کا وہ دوست نکلا جس سے اس 43 سالہ شادی شدہ خاتون کی سوشل میڈیا پر دوستی ہوئی تھی جو محبت میں تبدیل ہو گئی اور جس کے نتیجے میں اسے جان سے ہاتھ دھونے پڑے۔

پولیس نے قاتل کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ اس کے شریک جرم دوست کی تلاش جاری ہے۔ ایس ایچ او گوجرخان طیب ظہیر بیگ اور ایچ آئی یو گوجرخان کے انچارج چوہدری ارسلان اور ان کی ٹیم نے ہیومین انٹیلیجنس اور دیگر ذرائع کی مدد سے اس اندھے قتل کا سراغ لگایا۔

پولیس ذرائع کے مطابق لکی مروت کی رہائشی 8 بچوں کی ماں 43 سالہ نعمانہ افضل کی ملائیشیا میں مقیم 32 سالہ عدنان اختر سے ٹک ٹاک پر دوستی ہوئی، جو جلد ہی محبت میں تبدیل ہو گئی۔ عدنان اختر خاتون سے رقوم بٹورتا رہا اور غیر قانونی سرگرمیوں پر ملائیشیا سے ڈیپورٹ ہونے کے بعد دونوں ایک دوسرے کے اور قریب ہو گئے۔

نیشنل بینک آف پاکستان کا 2025 میں 85.9 ارب روپے کا ریکارڈ خالص منافع

گوجرخان کے رہائشی عدنان کی خاتون سے لکی مروت میں متعدد ملاقاتیں بھی ہوئیں اور وہ راتوں کو بھی وہاں رہتا رہا۔ تنہائی میں ملاقاتوں سے مطمئن نعمانہ نے ملزم کو اپنی پہلی اہلیہ کو طلاق دے کر شادی کرنے پر زور دینا شروع کر دیا۔ جب نعمانہ نے پیسے دینا بند کر دیے تو قتل کرنے سے دو روز قبل عدنان لکی مروت گیا اور گاڑی پر نعمانہ کو لے کر راولپنڈی آ گیا اور دو دن اور ایک رات دونوں اکٹھے رہے۔

کیمرون سے لی گئی فوٹیج کے مطابق کئی مقامات پر دونوں گاڑی میں اکٹھے دیکھے گئے۔ ملزم نے نعمانہ سے بھاری رقوم بٹورنے کے بعد اس سے جان چھڑانے کا فیصلہ کیا اور عدنان اختر نے اپنے دوست کامران کے ساتھ مل کر اسے راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بنایا۔ دونوں نے گاڑی میں ہی خاتون کو گلا دبا کر قتل کیا اور نعش گوجرخان میں ایک نجی کالج کے قریب سڑک کنارے پھینک دی۔

خاتون کے اندھے قتل کا مقدمہ پولیس کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔ پولیس نے خاتون کی شناخت نادرا ریکارڈ سے کرائی اور اس کی شناخت لکی مروت کی رہائشی نعمانہ کے نام سے ہوئی۔ اس کے خاوند کو بلوایا گیا تو اس نے بتایا کہ اس کی اہلیہ دو دن سے گھر سے غائب تھی۔

پولیس نے مقتولہ کے موبائل کا ریکارڈ چیک کیا تو انہیں اس بات پر حیرت ہوئی کہ نعمانہ کی موت سے دو دن قبل دونوں کے مابین لاتعداد رابطے ہوئے مگر دو دن ان کا کوئی رابطہ نہیں ہوا، کیونکہ دونوں اکٹھے تھے۔ پولیس ٹیم نے عدنان کو حراست میں لیا تو پہلے اس نے شاطرانہ طریقے اختیار کیے، بعد ازاں ملزم عدنان نے ساتھی کامران کے ساتھ مل کر نعمانہ کے قتل کا اعتراف کر لیا۔

پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے اس کا ریمانڈ حاصل کر لیا ہے جبکہ اس کے شریک ملزم کامران کی گرفتاری کے لیے پولیس متحرک ہے۔ سی پی او راولپنڈی سید خالد ہمدانی نے ایس پی صدر انعم شیر، اے ایس پی گوجرخان سید دانیال حسن، ایس ایچ او طیب ظہیر بیگ اور پولیس ٹیم کی کارکردگی کو سراہا ہے جنہوں نے تین دنوں میں اندھے قتل کا معمہ حل کیا۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.