وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی جوابی کارروائی میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 70 کے قریب دہشت گرد مارے گئے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے جس نے ہمیشہ کوشش کی کہ ہمسایوں سے بہتر تعلقات رکھے۔ طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ افغانستان سے بہت عرصے سے دہشت گردی ایکسپورٹ ہو رہی ہے۔
خیبر پختونخوا میں بلڈنگ پلان منظور، ریگولرائزیشن فیس مقرر
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر طرح کی کارروائی کر رہا ہے، کارروائیاں پاکستان کے اندر بھی جاری ہیں، 70 ہزار کے قریب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے جن میں مختلف قسم کے لوگ گرفتار ہوئے اور کئی دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ہونے والی یہ کارروائی اسی تناظر میں کی گئی، یہ کارروائی 3 مختلف مقامات پر 7 جگہوں پر کی گئی جس میں ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق 70 کے قریب دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ طلال چوہدری نے مزید کہا کہ بہت سارے شواہد موجود ہیں کہ زیادہ تر ہلاک دہشت گردوں کی شناخت پاکستان کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان اور اس کی عبوری حکومت اپنا فرض نبھانا نہیں چاہتے، دوحہ معاہدے میں افغانستان نے پوری دنیا کو باور کرایا تھا کہ افغان سرزمین کسی کے لیے بھی دہشت گردی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، لیکن افغانستان دہشت گردی روکنے میں ناکام رہا۔
خیال رہے کہ افغان طالبان کی جانب سے کی جانے والی دہشت گردی کے جواب میں پاکستان نے افغانستان میں مختلف مقامات پر دہشت گردوں کے 7 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے بتایا کہ پاکستان میں حالیہ خودکش حملوں میں افغانستان میں موجود دہشت گرد قیادت اور ان کے سہولت کار ملوث ہیں۔ دہشت گردوں نے حال ہی میں اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں کارروائیاں کیں۔ وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان، فتنہ الخوارج اور اس کے اتحادیوں نے قبول کی ہے۔ بیان کے مطابق پاکستان کے پاس اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ دہشت گرد کارروائیاں افغانستان میں موجود قیادت کی ہدایات پر کی گئیں۔