کیا تراویح 20 رکعات پڑھنا ہی ضروری ہے؟

کیا تراویح 20 رکعات پڑھنا ہی ضروری ہے؟

0

تراویح بیس رکعات پڑھنا ہی ضروری ہے یا حسب سہولت جتنی پڑھ سکتے ہیں پڑھ لیں؟ اس بات کی وضاحت کردیں کہ بیس رکعات تراویح کا ثبوت کہاں سے ہے؟ اور بیس رکعات تراویح کی حیثیت نفل و مستحب ہے یا سنتِ مؤکدہ یا واجب؟

ایران میں زلزلے کے جھٹکے، شدت5.5ریکارڈ

جواب: بیس رکعت تراویح ادا کرنا سنتِ مؤکدہ ہے اور یہی رسول اکرم ﷺ کا معمول تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے دو یا تین روز تراویح کی باقاعدہ امامت بھی فرمائی تھی، لیکن تیسرے یا چوتھے روز امامت کے لیے تشریف نہ لائے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین رسول اکرم ﷺ کے حجرہ مبارک کے باہر انتظار کرتے رہے اور اس خیال سے کہ نبی اکرم ﷺ سو نہ گئے ہوں، بعض صحابہ کھنکارنے لگے تو رسول اکرم ﷺ باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ تمہارے شوق کو دیکھتے ہوئے مجھے خوف ہوا کہ کہیں تم پر فرض نہ کردی جائیں، اگر فرض کردی گئیں تو تم ادا نہیں کر سکو گے، لہذا اے لوگو! اپنے گھروں میں ادا کرو۔ (متفق علیہ)

حدیث شریف میں رسول اللہ ﷺ کا یہ معمول منقول ہے کہ آپ ﷺ ماہ رمضان میں جماعت کے بغیر بیس رکعت تراویح اور وتر ادا فرماتے تھے، جیسا کہ امام بیہقی رحمہ اللہ نے السنن الکبری میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے۔ (السنن الکبری للبیہقی، کتاب الصلاۃ، باب ما روی فی عدد رکعات القیام فی شھر رمضان، رقم الحدیث:4962، ط: ادارہ تالیفات اشرفیہ و المصنف لابن ابی شیبہ، کتاب صلاۃ التطوع و الامامۃ و ابواب متفرقہ، کم یصلی فی رمضان رکعۃ ، ج:2، ص:286، ط: طیب اکادمی)

نیز اگر مجتہدین یا علمائے امت کسی حدیث کو قبول کر لیں اور اس پر سب عمل کریں تو وہ متواتر کے معنی میں ہو جاتی ہے، اور امت کا کسی حدیث کو قبول کرنا اس کی صحت اور حجت ہونے کی قوی ترین دلیل ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی مذکورہ حدیث اگرچہ خبر واحد ہے، لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین، تبع تابعین، ائمہ مجتہدین اور تمام امت نے اسے قبول کیا ہے اور بیس رکعت تراویح ادا کرنا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا بھی معمول تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی میں باجماعت بیس رکعت تراویح کا اہتمام کروایا تو ان پر کسی نے نکیر نہیں کی، بلکہ تمام صحابہ کرام نے باجماعت تراویح کے اہتمام پر اتفاق کیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بیس رکعات پر اتفاق یعنی اجماع صحابہ اس بات کی شہادت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے تراویح بیس رکعات ہی پڑھائی ہیں۔ لہذا بیس رکعات تراویح ادا کرنا سنت مؤکدہ ہے۔

اور سال میں ایک مرتبہ ہی اس کا موقع میسر آتا ہے، اس لیے مصروفیت اور تھکاوٹ کی وجہ سے بیس رکعات سے کم ادا کرنا اور اس کا معمول بنانا درست نہیں۔ اگر مصروفیت یا تھکاوٹ کی وجہ سے ایک ساتھ بیس رکعات نہ پڑھی جا سکیں تو سحری تک وقفے وقفے سے ادا کر لی جائیں۔ البتہ کبھی عذر (بیماری یا شرعی سفر) کی وجہ سے مکمل تراویح یا کچھ رکعتیں رہ جائیں تو گناہ یا کراہت نہیں ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.