پاکستان ہاکی ٹیم کے دورہ آسٹریلیا سے متعلق پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) کی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ وزیراعظم آفس کو ارسال کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق پی ایس بی کی رپورٹ میں پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) کو قصوروار قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں آسٹریلیا میں رہائشی انتظامات میں مبینہ بدانتظامی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ٹیم کو 2 فروری کو لاہور سے روانہ ہونا تھا اور 4 فروری کو ہوبارٹ پہنچنا تھا۔ تاہم پی ایچ ایف کی جانب سے ویزا درخواستوں میں تاخیر اور غلطیوں کے باعث شیڈول پرواز منسوخ ہوئی۔ نئے ٹکٹس کے اجرا پر 2 کروڑ 71 لاکھ روپے کا اضافی خرچ پی ایس بی نے برداشت کیا، جبکہ ویزا پراسیس پر مزید 97 لاکھ روپے کا بوجھ بھی اٹھایا گیا۔
ذرائع کے مطابق ٹیم کی رہائش کے لیے 49 ہزار 280 آسٹریلوی ڈالر پیشگی جاری کیے گئے تھے۔ آسٹریلیا میں 12 ڈبل اور 2 سنگل کمروں کی بکنگ کے لیے رقم فراہم کی گئی، تاہم ٹیم کا قیام ڈبل ٹری بائی ہلٹن ہوٹل میں نہیں ہو سکا جس کے لیے پیشگی ادائیگی کی گئی تھی۔
کھلاڑیوں کو یومیہ 115 امریکی ڈالر فی کس الأونس بھی دیا گیا جبکہ دیگر اخراجات کے لیے تقریباً 3 ہزار امریکی ڈالر فراہم کیے گئے۔ ٹیم 5 فروری کو روانہ ہوئی اور 7 فروری کو ہوبارٹ پہنچی، جبکہ 6 سے 14 فروری کے دوران متبادل رہائش کا انتظام کیا گیا۔