اسلام آباد: سپریم کورٹ میں جسٹس ملک شہزاد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے سامنے بدنام زمانہ چھوٹو گینگ کے سربراہ سمیت دیگر ملزمان کی سزاؤں کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی۔
جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ سزائے موت کے مقدمات دو رکنی بینچ نہیں سن سکتا۔ پراسیکیوٹر رائے اختر حسین نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ مقدمہ مشہور چھوٹو گینگ سے متعلق ہے۔
لائیو اسٹریمنگ کے دوران انفلوئنسر کا بیوٹی فلٹر فیل، ہزاروں فالوورز کم ہوگئے
جسٹس شہزاد احمد ملک نے کہا کہ چھوٹو گینگ پنجاب میں مشہور تھا، مگر اب سی سی ڈی نے اسے ختم کر دیا ہے اور سی ٹی ڈی والے تو مقدمات لڑنے والے وکیل عمران کو بھی لے گئے تھے۔
وکیل سردار عثمان کھوسہ نے بتایا کہ وہ چھوٹو گینگ کی طرف سے پیش ہو رہے ہیں اور محفوظ ہیں، اور کیس کی اگلی سماعت منگل کے روز کی درخواست کی۔ جسٹس شہزاد نے استفسار کیا کہ تاریخ استخارہ سے منتخب کی گئی ہے یا نہیں، جس پر وکیل نے ہنستے ہوئے رمضان کی کسی بابرکت تاریخ کی تجویز دی۔
جسٹس عقیل احمد عباسی نے کہا کہ اس ورلڈ کپ کا ذکر نہ کریں، جسٹس ملک شہزاد نے بھی کہا کہ کچھ لوگوں کو اس کا ذکر ناگوار گزرتا ہے۔ وکیل نے جواب دیا کہ چمپیئنز ٹرافی بھی رمضان میں جیتی گئی تھی۔
عدالت نے کیس کی سماعت 7 اپریل تک ملتوی کر دی۔ چھوٹو گینگ کے سربراہ غلام رسول سمیت چار ملزمان نے سزاؤں کے خلاف اپیلیں دائر کی ہوئی ہیں۔