ایف بی آر نے تمام کاروباری ٹرانزیکشز کی مانیٹرنگ کا فیصلہ کر لیا

ایف بی آر نے تمام کاروباری ٹرانزیکشز کی مانیٹرنگ کا فیصلہ کر لیا

0

فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) نے ٹیکس چوری روکنے اور معیشت کو زیادہ دستاویزی بنانے کے لیے تمام کاروباری ٹرانزیکشنز کی نگرانی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں انکم ٹیکس رولز میں ترامیم کے مسودے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے، جس کے تحت کاروباری لین دین کی رئیل ٹائم مانیٹرنگ سے ٹیکس ریونیو میں اضافہ متوقع ہے۔

ایس آئی ایف سی کی کوششوں سے پاکستان میں توانائی کی پیداوار میں تاریخی اضافہ

ایف بی آر کی مانیٹرنگ کا دائرہ کار بڑے ریٹیلرز، پروفیشنلز اور سروس پرووائیڈرز تک پھیلایا گیا ہے۔ ڈاکٹروں، وکلاء، اکاؤنٹنٹس، بڑے شہروں کے ایلیٹ کلب، ایئر کنڈیشن ریسٹورنٹس، ہوسٹل، گیسٹ ہاؤسز اور میرچ ہالز بھی نگرانی کے دائرے میں شامل ہوں گے۔ اب پوائنٹ آف سیل (POS) سسٹم اور ای-انوائسنگ کے بغیر سیل سروس فراہم کرنا ناممکن ہوگا۔

بیوٹی پارلرز، سلیمینگ، مساج سینٹرز، ہیئر ٹرانسپلانٹ کلینکس، بڑے نجی ڈاکٹرز اور تعلیمی ادارے بھی POS سسٹم سے منسلک ہوں گے۔ 500 روپے سے زیادہ فیس والے ڈینٹسٹ اور 50 ہزار روپے سے زیادہ فیس والے فوٹوگرافرز، ویڈیوگرافرز اور ایونٹ منیجرز بھی پابند ہوں گے۔

کوریئر، کارگو سروسز، فارن ایکسچینج ڈیلرز، نجی میڈیکل لیبارٹریز جو ایسکرے، سٹی اسکین اور ایم آر آئی کرتی ہیں، اور ماہانہ 1,000 روپے سے زیادہ فیس لینے والے نجی اسکول، کالجز، یونیورسٹیز بھی نگرانی میں آئیں گے۔ اس کے علاوہ انٹر سٹی ٹریول سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو بھی قواعد پر عمل کرنا ہوگا۔

یہ اقدام ٹیکس چوری کے خاتمے اور کاروباری شفافیت کو فروغ دینے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.