سائنس دانوں نے رومانیہ کے ایک قدیم زیرِ زمین برفانی غار سے ایسے بیکٹیریا دریافت کیے ہیں جو آج استعمال ہونے والی 10 جدید اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت رکھتے ہیں۔
برفانی غاریں مختلف قسم کے مائیکروآرگنزم کا مسکن ہوتی ہیں اور اگر یہاں موجود برف پگھل جائے تو یہ جراثیم باہر آ کر اینٹی بائیوٹک مزاحمت کے بڑھتے ہوئے عالمی بحران میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں۔ تاہم محققین کا کہنا ہے کہ یہ جراثیم ہمیں اس مسئلے سے نمٹنے کی نئی حکمتِ عملی تیار کرنے میں بھی مدد دے سکتے ہیں، کیونکہ اینٹی بائیوٹکس کے بے دریغ استعمال نے انہیں کم مؤثر بنا دیا ہے۔
اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ ناصر عباس کا پارلیمنٹ میں دھرنا ختم کرنے کا اعلان
رومانیہ کے اس غار میں پانچ ہزار سال پرانی برف کی تہہ سے ملنے والا بیکٹیریا **سائیکرو بیکٹر ایس سی 65 اے.3 (Psychrobacter SC65A.3)** سرد ماحول سے مطابقت رکھنے والا جاندار ہے، جو جانوروں اور انسانوں میں انفیکشن کا سبب بن سکتا ہے۔
مطالعے کی مصنفہ ڈاکٹر کرسٹینا پرکریا، انسٹیٹیوٹ آف بائیولوجی بوکارسٹ، رومانیہ اکیڈمی کی سینئر سائنس دان، کا کہنا ہے کہ اگر پگھلتی ہوئی برف ان جراثیم کو آزاد کر دے تو ان کے مزاحمتی جین جدید بیکٹیریا میں منتقل ہو سکتے ہیں، جس سے اینٹی بائیوٹک مزاحمت کا عالمی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ بیکٹیریا ایک طرف خطرہ ہیں تو دوسری طرف اینٹی بائیوٹک مزاحمت سے نمٹنے کے لیے امید بھی فراہم کرتے ہیں۔