سانحہ گل پلازہ: لائٹ بند نہ ہوتی تو جانیں بچ سکتی تھیں: چیف فائر افسر کے کمیشن کے سامنے سنسنی خیز انکشافات

سانحہ گل پلازہ: لائٹ بند نہ ہوتی تو جانیں بچ سکتی تھیں: چیف فائر افسر کے کمیشن کے سامنے سنسنی خیز انکشافات

0

کراچی: چیف فائر آفیسر نے سانحہ گل پلازہ کے جوڈیشل کمیشن کے سامنے انکشاف کیا ہے کہ اگر پلازہ کی بجلی بند نہ ہوتی اور ایمرجنسی اعلان کیا جاتا تو انسانی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔

جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں ڈی جی ریسکیو 1122 واجد صبغت اللہ نے بتایا کہ رات 10 بج کر 35 منٹ پر آگ کی اطلاع ملی اور 10 بج کر 52 منٹ پر فائر بریگیڈ موقع پر پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ گراؤنڈ فلور سے میزنائن اور فرسٹ فلور کے لوگ سمجھ رہے تھے کہ آگ بجھ جائے گی، لیکن دکان دار سامان نکالنے میں مصروف تھے، جس سے صورتحال پیچیدہ ہوگئی۔

پنجاب حکومت نے صوبے کی پہلی باقاعدہ صوبائی ایئرلائن پنجاب ایئرلائن کے آغاز کا فیصلہ کر لیا۔

ڈی جی ریسکیو نے بتایا کہ گراؤنڈ اور میزنائن فلور میں داخلی راستے بند تھے، کھڑکیاں لوہے کی گرل سے محفوظ تھیں اور قدرتی روشنی کا انتظام نہیں تھا، دھواں اتنا زیادہ تھا کہ موبائل ٹارچ سے بھی کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آگ کی شدت اور تنگ راستوں کی وجہ سے لوگ پھنس گئے تھے۔

چیف فائر آفیسر ہمایوں خان نے کہا کہ پلازہ میں فوم استعمال کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا کیونکہ درجہ حرارت ایک ہزار ڈگری سے زائد تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ساڑھے 11 بجے آگ بجھانے کا کام شروع ہوا، جبکہ واٹر کارپوریشن کا ٹینکر ساڑھے 12 بجے پہنچا۔ فائر فائٹرز نے کھڑکیاں کاٹ کر چند افراد کو نکالا اور پہلی و دوسری منزل کی گرلیں بھی کاٹیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ لائٹ بند نہ ہوتی یا ایمرجنسی لائٹس موجود ہوتیں تو نقصان اتنا شدید نہ ہوتا، اور اگر اعلان کیا جاتا کہ چوکیدار دروازے کھول دیں تو انسانی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔ کمیشن نے استفسار کیا کہ آگ لگنے کی وجوہات کیا تھیں، جس پر ہمایوں خان نے بتایا کہ فالس سیلنگ اور ناقص وینٹیلیشن آگ پھیلنے میں اہم کردار ادا کر رہی تھیں۔

ڈی جی ریسکیو اور چیف فائر آفیسر کے بیان کے مطابق پلازہ میں آگ لگنے کے بعد رسپانس کی کارروائی فوری تھی، لیکن محدود راستے، دھواں اور لوگوں کی غیر محفوظ حرکتوں کی وجہ سے جانی نقصان روکنا ممکن نہ ہو سکا۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.