جماعت اسلامی کی سندھ اسمبلی کے سامنے دھرنےکی کوشش، پولیس کا لاٹھی چارج اور شیلنگ، متعددکارکن گرفتار

جماعت اسلامی کی سندھ اسمبلی کے سامنے دھرنےکی کوشش، پولیس کا لاٹھی چارج اور شیلنگ، متعددکارکن گرفتار

0

کراچی: سندھ اسمبلی جانے کی کوشش کرنے والے جماعت اسلامی کے کارکنوں پر پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا۔

پولیس کی جانب سے شیلنگ کے ذریعے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی گئی، جس کے نتیجے میں جماعت اسلامی کا ایک کارکن زخمی ہوگیا۔ پولیس نے جماعت اسلامی کا ساؤنڈ سسٹم لگا ٹرک قبضے میں لے لیا اور 10 کارکنوں کو حراست میں بھی لے لیا۔

دوسری جانب جماعت اسلامی کے کارکنوں کی جانب سے پتھراؤ کے باعث متعدد پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔

کوئی بیماری کا بہانہ بنا کر سزاؤں میں معافی چاہتا ہے تو بھول جائے، وزیر ریلوے

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کی فسطائیت پورا ملک دیکھ رہا ہے، پرامن شہریوں پر آنسو گیس کی شیلنگ اور دھرنے سے روکنا بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے، جبکہ کراچی کو بااختیار شہری حکومت ملنی چاہیے۔

سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن نے جیو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ جماعت اسلامی کو پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا کہ ریڈ زون میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق مشتعل کارکنوں نے ریڈ زون میں داخل ہو کر پتھراؤ کیا، اس لیے پولیس کو کارروائی کرنا پڑی۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی میں داخل ہونے کی کوشش کی گئی، پولیس پر پتھراؤ کیا گیا اور اسی وجہ سے آنسو گیس کی شیلنگ اور گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہفتے کے روز اسمبلی بند ہونے کے باوجود احتجاج کی کیا ضرورت تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ریڈ زون میں داخلے پر پابندی ہے، سندھ اسمبلی ایک اہم سرکاری عمارت ہے اور کسی کو مسلح یا ڈنڈوں کے ساتھ داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر نے کہا کہ وہ شہر کے بنیادی حقوق اور پانی کی فراہمی کے لیے نکلے تھے۔ ان کے مطابق کارکنوں پر تشدد اور شیلنگ کی گئی، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ جماعت اسلامی نے 14 فروری کو کراچی کے حقوق کے لیے سندھ اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.