کراچی: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں پاکستان آرمی ٹیکنیکل ونگ کے افسران کی تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس حوالے سے ڈی جی این سی سی آئی اے کی جانب سے 2 دسمبر 2025 کو وفاقی وزیر داخلہ کو ایک خط لکھا گیا، جس میں کہا گیا کہ سائبر کرائم انویسٹی گیشن اور ڈیجیٹل فارنزکس کے شعبے میں بڑھتی ہوئی تکنیکی مہارت کی ضرورت کے پیش نظر ادارہ اپنے ہیڈکوارٹرز اور زونل دفاتر میں آپریشنل صلاحیت مضبوط بنانے کے عمل میں ہے۔
پاکستان کے ساتھ مجوزہ بجلی ٹیرف میں ردوبدل پر بات چیت کررہے ہیں: آئی ایم ایف
خط کے مطابق جدید اور پیچیدہ سائبر خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے اور تفتیشی کارروائیوں کے لیے مضبوط تکنیکی معاونت کو یقینی بنانے کے لیے اعلیٰ مہارت رکھنے والے تکنیکی عملے کی شمولیت ناگزیر ہے۔
خط میں کہا گیا کہ پاک فوج کے ٹیکنیکل ونگ کے پاس وہ مہارت، نظم و ضبط اور تجربہ موجود ہے جو این سی سی آئی اے کی عملی ضروریات کے عین مطابق ہے۔
این سی سی آئی اے نے درخواست کی ہے کہ پاک فوج کے ٹیکنیکل ونگ سے 8 تکنیکی افسران کی خدمات دو سال کے لیے فراہم کی جائیں۔ مجوزہ تعیناتیوں میں دو افسران این سی سی آئی اے ہیڈکوارٹرز، دو لاہور زون، دو کراچی زون، ایک پشاور زون اور ایک کوئٹہ زون میں تعینات کیا جائے گا۔
خط میں بتایا گیا کہ مذکورہ افسران کو ڈیجیٹل فارنزکس، سائبر انٹیلیجنس، نیٹ ورک سکیورٹی اور متعلقہ تکنیکی شعبوں میں تعینات کیا جائے گا، جبکہ ان کی تنخواہیں، الاؤنسز اور انتظامی اخراجات سرکاری قواعد کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی خود برداشت کرے گی۔
اس خط کے بعد وزارت داخلہ نے وزارت دفاع کو خط لکھا، جس کے جواب میں وزارت دفاع نے بتایا کہ متعلقہ شعبہ جات سے مشاورت کے بعد معاملے پر غور کیا گیا ہے۔
وزارت دفاع نے کیس کی مزید کارروائی کے لیے ادارے کا تعارف، افسران کی تعیناتی کی جگہ، تکنیکی افسران کا رینک اور ان کی تعلیمی قابلیت سمیت مزید معلومات طلب کی ہیں۔