مسلم لیگ ن گلگت بلتستان میں اتحاد، اندرونی اختلافات کے خاتمے اور متحد ہو کر انتخابات میں جانے کا فیصلہ
گلگت مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان میں اہم پیش رفت، پارٹی کے اندرونی اختلافات کے خاتمے اور آئندہ انتخابات میں متحد ہو کر آگے بڑھنے کا فیصلہ کر لیا گیا ۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان کے مختلف گروپس کے درمیان اتفاق رائے پیدا ہو گیا۔
اجلاس میں سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمٰن گروپ اور اکبر تابان، محمد انور گروپ کے درمیان اتحاد پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں پارٹی رہنماؤں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جن میں سابق وزیر محمد انور بھی شامل تھے۔
وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے اس موقع پر کہا کہ مسلم لیگ (ن) ایک ہے اور نواز شریف کی قیادت میں متحد ہو کر انتخابات میں حصہ لے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی ٹکٹ میرٹ کی بنیاد پر دیے جائیں گے اور گلگت بلتستان میں پارٹی کے اندر تمام اختلافات کا مکمل خاتمہ ہو چکا ہے۔ انجینئر امیر مقام کا کہنا تھا کہ وہ خود کو گلگت بلتستان کی مسلم لیگ (ن) کی ٹیم کا حصہ سمجھتے ہیں اور پارٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن کردار ادا کریں گے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان کے صدر حافظ حفیظ الرحمٰن نے کہا کہ پارٹی قیادت اور تمام رہنما ایک صفحے پر ہیں اور نواز شریف کے وژن کے مطابق متحد ہو کر آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اختلافات ماضی کا حصہ بن چکے ہیں اور اب تمام تر توجہ آئندہ انتخابات کی تیاری پر مرکوز ہے۔
مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان کے جنرل سیکرٹری اکبر تابان نے کہا کہ ہمارے دل صاف ہیں اور ہم مکمل اتفاق و اتحاد کے ساتھ ایک ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پارٹی اتحاد کی بدولت گلگت بلتستان میں ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ (ن) کو کامیابی ملے گی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس سے قبل وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے دونوں فریقین سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں بھی کیں، جن کے بعد مشترکہ اجلاس میں اتفاق رائے ممکن ہوا۔ اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیر کے کہنے پر دونوں گروپوں کے رہنماؤں نے ایک دوسرے کو گلے لگا کر اتحاد کا عملی مظاہرہ کیا۔
اجلاس کے بعد حافظ حفیظ الرحمٰن اور اکبر تابان نے مشترکہ طور پر کہا کہ ان کے اختلافات مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں، حافظ حفیظ الرحمٰن بدستور پارٹی کے صدر جبکہ اکبر تابان جنرل سیکرٹری کے عہدے پر کام کرتے رہیں گے، اور مسلم لیگ (ن) آئندہ انتخابات جیت کر 2015 کے بعد جمود کا شکار ترقیاتی سفر کو دوبارہ شروع کرے گی۔