ریٹائرڈ جسٹس کیلاش ناتھ کوہلی کی تعیناتی گڈ گورننس کی جانب ایک مضبوط قدم

ریٹائرڈ جسٹس کیلاش ناتھ کوہلی کی تعیناتی گڈ گورننس کی جانب ایک مضبوط قدم

0

*ریٹائرڈ جسٹس کیلاش ناتھ کوہلی کی تعیناتی گڈ گورننس کی جانب ایک مضبوط قدم*

*ذرا جرات کے ساتھ*
*تحریر : میر اسلم رند*

ریٹائرڈ جسٹس کیلاش ناتھ کوہلی کی دوبارہ تعیناتی بلاشبہ ایک بہترین اور بروقت فیصلہ ہے وہ اس عہدے پر پہلے بھی اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں اور اپنے سابقہ دور میں انہوں نے ایک ایسے ادارے کو درست سمت دی جو بدنام زمانہ افسران کے لیے کمائی کا ذریعہ بن چکا تھا ان کی قیادت میں پبلک سروس کمیشن ایک باکردار شفاف اور قابلِ اعتماد ادارے کے طور پر پہچانا جانے لگا جسٹس کیلاش ناتھ کوہلی کی تعیناتی کے بعد نہ صرف ادارے کی ساکھ بحال ہوئی بلکہ بعد میں آنے والے چیئرمین اور ممبران نے بھی اسی معیار کو برقرار رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان کی دوبارہ تعیناتی کو عوامی اور فکری حلقوں میں خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے اس فیصلے پر وزیرِاعلیٰ بلوچستان اور وہ تمام افراد بھی قابلِ تحسین ہیں جنہوں نے اس نام کی سفارش کی کیونکہ بلوچستان کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ ہمیشہ سے بدانتظامی (Bad Governance) رہی ہے آج جسٹس کیلاش ناتھ کوہلی کی تعیناتی کے ساتھ ہم گڈ گورننس کی طرف ایک اور عملی قدم اٹھاتے دیکھ رہے ہیں
اس سے قبل پہلا مثبت قدم فنانس ڈیپارٹمنٹ میں میرٹ پر تقرریوں کی صورت میں سامنے آیا اور اب یہ دوسرا اہم اقدام ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اگر نیت درست ہو تو اصلاح ممکن ہے مجھے اکثر حکامِ بالا کی جانب سے یہ شکوہ سننے کو ملا کہ میں اپنے کالموں میں بلوچستان کی حکومتوں کا منفی تصور پیش کرتا ہوں جنابِ والا! جب آپ اچھے فیصلے کریں گے تو قلم خود بخود آپ کی کارکردگی کا مثبت عکس پیش کرے گا صحافت کا کام تنقید برائے تنقید نہیں بلکہ سچ کو اجاگر کرنا ہے
یہاں میں ایک واقعہ قارئین کے ساتھ ضرور شیئر کرنا چاہوں گا۔ پچھلی بار جب جسٹس کیلاش ناتھ کوہلی چیئرمین پبلک سروس کمیشن تھے تو اسسٹنٹ پروفیسر (ڈاکٹرز) کے امتحانات منعقد ہو رہے تھےایک ڈاکٹر صاحبہ بار بار چیئرمین صاحب سے ملنے کی خواہش ظاہر کرتی رہیں مگر اصولی موقف کے تحت ملاقات سے انکار کیا جاتا رہا بالآخر جب اصرار بڑھا تو چیئرمین صاحب نے ملاقات کی اجازت دی اس ڈاکٹر صاحبہ نے کہا سر میرے ضلع میں بااثر اور طاقتور لوگ موجود ہیں، ان کے بچے بھی اسی پوسٹ کے امیدوار ہیں۔ اگر میری قابلیت اور نمبر بہتر ہوں تو براہِ کرم میرا حق کسی کو نہ دیا جائے راوی کے مطابق جب امتحان اور انٹرویو مکمل ہوئے تو اس ڈاکٹر صاحبہ کے نمبر واقعی ان تمام بااثر امیدواروں سے کہیں زیادہ تھے اس دوران کئی طاقتور حلقوں کی جانب سے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی فون کالز ہوئیں مگر چیئرمین صاحب نے نہ فون سنا اور نہ دباؤ قبول کیا نتیجتاً میرٹ پر آنے والی امیدوار کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا یہی ہوتا ہے میرٹ کا محافظ یہی ہوتا ہے ایک باکردار ادارے کا سربراہ آج ایک بار پھر ایسے شخص کو ذمہ داری سونپی گئی ہے جس کا ماضی اس کی دیانت اور اصول پسندی کی گواہی دیتا ہے امید ہے کہ یہ تعیناتی بلوچستان میں شفافیت انصاف اور میرٹ کے کلچر کو مزید مضبوط کرے گی اور یہی کسی بھی معاشرے کی ترقی کی اصل بنیاد ہے

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.