sui northern 1

پاپا جانی کے فرشتے اور پریاں

0
Social Wallet protection 2

کالم/ پکار شیراز خان لندن

sui northern 2

قوموں کی تاریخ میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو اقتدار، وزارت اور سیاست کے شور سے نکل کر خاموش خدمت کے راستے پر چل پڑتے ہیں یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اگر چاہیں تو طاقت کے ایوانوں میں بلند مقام حاصل کر سکتے ہیں مگر وہ انسانوں کے دلوں میں جگہ بنانے کو ترجیح دیتے ہیں اپنی آخرت سنوارنے کے ساتھ ساتھ انسانیت کی خدمت کو اپنی معراج سمجھتے ہیں ۔ زمرد خان انہی چند شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے سیاست کی بلندیوں کو ٹھکرا کر یتیم بچوں کے مستقبل کو اپنا مشن بنا لیا ہے۔
زمرد خان ماضی میں قومی اسمبلی کے رکن (سابق ایم این اے) رہ چکے ہیں۔ وہ سیاست میں ایسے وقت میں سرگرم تھے جب ان کے لیے مزید آگے بڑھنے وزارتوں اور اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں تک پہنچنے کے دروازے کھلے ہوئے تھے۔ مگر انہوں نے اقتدار کے بجائے خدمت کا راستہ چُنا انہوں نے محسوس کیا کہ اصل سیاست وہ ہے جو انسان کی تقدیر بدل دے، اور اصل طاقت وہ ہے جو کسی یتیم بچے کے آنسو پونچھ سکے۔
اسی سوچ کے تحت پاکستان سویٹ ہومز کا قیام عمل میں آیا جو آج پاکستان اور آزاد کشمیر میں یتیم اور نادار بچوں کی تعلیم، رہائش اور کفالت کا سب سے منظم اور شفاف ماڈل بن رہا ہے سویٹ ہومز کے تحت نہ صرف یتیم بچوں کے لیے رہائشی مراکز قائم کیے گئے ہیں بلکہ جدید تعلیمی ادارے اور کیڈٹ کالجز بھی بنائے گئے جہاں ہزاروں طلبہ و طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں زمرد خان ان دنوں برطانیہ کے دورے پر ہیں لندن میں معروف سماجی اور کارباری شخصیت چوہدری صدیق اور دیگر اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے منعقدہ ایک فنڈ ریزنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے زمرد خان نے کہا کہ پاکستان سویٹ ہومز ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک امانت ہے۔ ایک ایسی امانت جو ان بچوں کی ہے جن کے سر سے والدین کا سایہ اٹھ چکا ہے مگر جن کے خواب اب بھی زندہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ اور یورپ اور اوورسیز میں مقیم پاکستانی جب بھی پاکستان جائیں تو ان سویٹ ہومز کے اداروں کا دورہ ضرور کریں تاکہ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں کہ عطیات کس طرح ایک بچے کی زندگی بدل دیتے ہیں۔
زمرد خان نے رمضان المبارک کی آمد سے قبل اوورسیز پاکستانیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت صرف خیرات دینے کا نہیں بلکہ مستقل وابستگی کا ہے انہوں نے کہا کہ اگر ہم واقعی پاکستان میں تعلیمی انقلاب چاہتے ہیں تو ہمیں پاکستان سویٹ ہومز جیسے اداروں کے ساتھ کھڑے ہونا ہوگا کیونکہ یہی ادارے ریاست کے کمزور ہاتھوں کو سہارا دے رہے ہیں۔
سویٹ ہومز کے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلبہ و طالبات زمرد خان کو رسمی القابات سے نہیں بلکہ محبت سے "پاپا جانی” کہتے ہیں یہ محض ایک لفظ نہیں بلکہ ایک رشتہ ہے ایک اعتماد ہے جو بچوں اور ان کے محسن کے درمیان قائم ہو چکا ہے زمرد خان بھی ان بچوں کو یتیم نہیں بلکہ "پریاں” اور "فرشتے” کہہ کر پکارتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ بچے ہمارے سماج کا بوجھ نہیں بلکہ اللہ کی امانت ہیں جن کی درست تربیت پورے معاشرے کو بدل سکتی ہے۔
تقریب سے پاکستان سویٹ ہومز یوکے کے چیئرمین چوہدری صدیق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زمرد خان کی قیادت میں سویٹ ہومز ایک تحریک بن چکی ہے انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان سویٹ ہومز کے لئے انہوں نے اپنی بقیہ زندگی وقف کردی ہے یاد رہے کہ چوہدری صدیق اس سے پہلے پاکستان چیمبرز آف کامرس کے چئیرمین رہ چکے ہیں اور لندن کی مسجد کے تیس سال سے ٹرسٹی بھی رہ چکے ہیں اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کے چیئرمین سید قمر رضا نے کہا کہ تعلیم ہی وہ واحد راستہ ہے جو پاکستان کو اندھیروں سے نکال سکتا ہے، اور سویٹ ہومز اس راستے پر عملی سفر کر رہا ہے۔سویٹ ہومز کے
ٹرسٹیز کامران خان، ناصر بشیر اور ڈنمارک میں پاکستان سویٹ ہومز کی سربراہ مسزز افتخار قیصر نے بھی خطاب کیا اور یورپ میں مقیم پاکستانیوں سے اپیل کی کہ وہ اس مشن کو مزید مضبوط بنائیں تقریب کا آغاز مولانا اشرف سیالوی کی تلاوتِ قرآنِ مجید سے ہوا جبکہ نظامت کے فرائض معروف صحافی یاسر خان نے انجام دیئے
اس موقع پر پاکستان سویٹ ہومز کی ویڈیوز بھی دکھائی گئیں جن میں بلوچستان، سندھ، پنجاب، اسلام آباد، سوہاوہ اور آزاد کشمیر میں قائم اداروں اور کالجز کی تعلیمی سرگرمیاں شامل تھیں۔ ان مناظر نے ثابت کیا کہ یہ ادارے صرف عمارتیں نہیں بلکہ کردار سازی کی فیکٹریاں ہیں۔
تقریب میں لاکھوں پاؤنڈز کی خطیر رقم جمع کی گئی جو پاکستان میں نئے تعلیمی منصوبوں لیبارٹریوں اور موجودہ اداروں کی توسیع پر خرچ کی جائے گی۔ اس تقریب میں پاکستان ہائی کمیشن لندن کے پریس منسٹر علی نواز ملک، سابق صدر گجرات چیمبرز آف کامرس چوہدری افتخار احمد، اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کے چیئرمین نعیم نقشبندی،

دوبئی سے شوکت محمود بٹ، چوہدری فیصل چیچی، علی ربنواز نون
سابق مئیر چوہدری لیاقت علی، چوہدری شوکت علی،امجد بوبی، حاجی محمد منیر، اشرف چغتائی، چوہدری اورنگزیب، چوہدری شہپال، سابق میئر طارق ڈار، ابرار میئر ملک مہربان، غلام دستگیر خان، اعجاز احمد اور او پی ایف کے ایڈوائزر برائے سرمایہ کاری حاجی عابد سابق مئیر یعقوب حنیف سمیت بڑی تعداد میں معزز شخصیات شریک ہوئیں۔
آج جب سیاست ذاتی مفادات کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہے، زمرد خان کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ سیاست سے ہٹ کر بھی قوم کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اقتدار نہیں چُنا، انہوں نے انسان چُنا۔ پاکستان سویٹ ہومز دراصل اسی انتخاب کی روشن علامت ہے۔
یہ بچے، جو آج پاپا جانی کی شفقت میں پل رہے ہیں، کل پاکستان کا روشن چہرہ بنیں گے۔ اور شاید یہی وہ صدقۂ جاریہ ہے جو کسی بھی سیاسی عہدے سے کہیں زیادہ طاقتور اور دائمی ہوتا ہے دریں اثناء ہاوس آف لارڈز کے تاحیات رکن لارڈ قربان حسین جو کسی وجہ سے تقریب میں شرکت نہیں کرسکے نے مجھے بتایا کہ انہوں نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران سویٹ ہومز کا دورہ کرچکے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ زمردخان پاکستان کی بڑی خدمت کررہے ہیں جو کام حکومتوں کے کرنے والے ہیں وہ زمرد خان کررہے ہیں اور ہم سب کو اس کی اونرشپ لینی چاہیے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.