دنیا کی تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ قومیں محض جغرافیائی سرحدوں سے نہیں بنتیں بلکہ مشترکہ تاریخ، تہذیب، زبان، ثقافت، اجتماعی شعور اور مستقبل کے تصور سے وجود میں آتی ہیں۔ کشمیر کا مسئلہ بھی محض زمین کے ایک ٹکڑے کا تنازع نہیں بلکہ ایک ایسی قوم کا سوال ہے جس کی شناخت صدیوں پر محیط ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ آج کشمیریوں کو نہ صرف سیاسی جبر کا سامنا ہے بلکہ انہیں بتدریج اپنی قومی شناخت سے بھی دُور کیا جا رہا ہے جو کسی بھی قوم کے ساتھ سب سے بڑی زیادتی ہوتی ہے۔
کشمیر کی تاریخ کم از کم پانچ ہزار سال پر محیط ہے۔ نیلمت پران اور کلہن کی راج ترنگنی جیسے مستند تاریخی ماخذ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ کشمیر ایک الگ تہذیبی اور سیاسی اکائی رہا ہے۔ اشوک اعظم کے دور سے لے کر بدھ مت، ہندو شاہی، مسلم سلاطین، مغل، افغان، سکھ اور ڈوگرہ ادوار تک حکمران بدلتے رہے، مگر کشمیری معاشرے کی تہذیبی روح، رواداری اور شناخت برقرار رہی۔ لال دید اور شیخ نورالدین ولی (نند ریشی) جیسے صوفیا نے کشمیری سماج کو انسان دوستی، مساوات اور برداشت کا درس دیا، جو کشمیری قومیت کی بنیاد ہے۔
ریاست جموں و کشمیر کا کل رقبہ تقریباً 2,22,236 مربع کلومیٹر ہے۔ 1947ء کے بعد یہ ریاست کشمیری عوام کی مرضی کے بغیر تین حصوں میں تقسیم کر دی گئی۔
بھارت کے زیرِ تسلط حصہ تقریباً 1,01,387 مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے، جس میں جموں، وادی کشمیر اور لداخ شامل ہیں۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر تقریباً 85,846 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے، جس میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان شامل ہیں۔
چین کے زیرِ انتظام علاقہ تقریباً 37,555 مربع کلومیٹر ہے، جس میں اکسائی چن اور شکسگام ویلی شامل ہیں۔
یہ تقسیم کشمیری قوم کو جغرافیائی، سیاسی اور سماجی طور پر بانٹنے کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیا میں مستقل کشیدگی کا سبب بنی ہوئی ہے۔
کشمیر تینوں ممالک بھارت، پاکستان اور چین کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کے لیے کشمیر اس کی آبی سلامتی کی بنیاد ہے کیونکہ دریائے سندھ، جہلم اور چناب جیسے اہم دریا یہیں سے نکلتے ہیں جبکہ کشمیر پاکستان کا دفاعی یونٹ بھی ہے بھارت کے لیے کشمیر اس کی علاقائی سالمیت، قومی وقار اور چین کے ساتھ دفاعی توازن کے تناظر میں اہم ہے۔ چین کے لیے اکسائی چن اس کی مغربی دفاعی لائن اور پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔ یوں کشمیر صرف ایک خطہ نہیں بلکہ پورے خطے کی سیاست، معیشت اور سلامتی کا محور ہے۔
لسانی اعتبار سے کشمیر ایک متنوع مگر مربوط معاشرہ ہے۔ یہاں کشمیری (کٲشُر)، ڈوگری، گوجری، شینا، بلتی، پہاڑی،بروشسکی، لداخی، اردو اور دیگر زبانیں بولی جاتی ہیں۔ کشمیری زبان اس قوم کی بنیادی شناخت ہے، جس کی اپنی قدیم ادبی روایت، شاعری اور لوک دانش موجود ہے۔ زبان کا یہ تسلسل کشمیری قوم کے زندہ ہونے کا ثبوت ہے۔
مذہبی اعتبار سے کشمیر ہمیشہ تنوع کا حامل رہا ہے۔ یہاں مسلمان، ہندو، بدھ اور سکھ آباد رہے ہیں۔ آج کشمیر میں مسلمان اکثریت میں ہیں، جس کی وجہ کوئی جبر نہیں بلکہ تاریخ ہے۔ چودھویں صدی میں اسلام صوفیائے کرام کے ذریعے کشمیر میں پھیلا۔ ذات پات سے آزادی، مساوات اور روحانی کشش نے کشمیری عوام کو اسلام کی طرف مائل کیا۔ اسی لیے کشمیر میں اسلام ایک سخت گیر نہیں بلکہ صوفیانہ، روادار اور ثقافتی رنگ میں نظر آتا ہے۔
بدقسمتی سے آج سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ کشمیریوں کو اپنی شناخت سے بے نیاز بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بھارت کے قبضے میں کشمیر میں ریاستی جبر، فوجی محاصرہ، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، اظہارِ رائے پر پابندیاں اور آبادی کا تناسب بدلنے کی کوششیں کھلے عام جاری ہیں۔ یہ مظالم صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں بلکہ کشمیری شناخت کو مٹانے کی ایک منظم کوشش ہیں۔
دوسری جانب پاکستان خود کو کشمیریوں کا پشتی بان اور وکیل قرار دیتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کشمیریوں کو مکمل داخلی خودمختاری آج تک حاصل نہیں ہو سکی۔ حمایت کے دعوے اپنی جگہ، مگر جب فیصلہ سازی کا اختیار محدود ہو تو قوم کی شناخت کمزور پڑتی ہے۔ یہ تضاد کشمیریوں میں احساسِ محرومی کو جنم دیتا ہے۔
اس سے بھی زیادہ تشویشناک امر یہ ہے کہ کچھ عناصر، جو خود کو حب الوطنی کا ٹھیکیدار سمجھتے ہیں کشمیریوں کے خلاف نفرت آمیز مہمات چلاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر گالیاں، الزام تراشی اور کشمیری جدوجہد کو مشکوک قرار دینا دراصل دشمن کے بیانیے کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔ یہ لوگ عملاً ڈاکیے کا کردار ادا کرتے ہیں، جو طاقتور بیانیے کو کمزور قوم تک پہنچاتے ہیں مضحکہ خیز بات یہ ہے سوشل میڈیا پر کشمیریوں کی ذات نسل پر حملے کروانے والوں کو کشمیریوں کی قربانیوں تاریخ اور پاکستان سے رشتہ داری کا بھی معلوم نہیں ہے ۔
سوال یہ نہیں کہ کشمیری آزاد ہو کر ایک ریاست چلا سکتے ہیں یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا انہیں اپنی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے گا یا نہیں۔ کشمیر قدرتی وسائل، پانی، پن بجلی، سیاحت اور انسانی صلاحیتوں سے مالا مال ہے۔ ایک آزاد کشمیر ایک پرامن، خودمختار اور باوقار ریاست کے طور پر نہ صرف ممکن ہے بلکہ خطے میں استحکام کی ضمانت بھی بن سکتا ہے۔
تاریخ، تہذیب، زبان، مذہبی ہم آہنگی اور اجتماعی شعور اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ کشمیری ایک قوم ہیں۔ اور قومیں اگر دیر سے سہی، آخرکار اپنی شناخت منوا لیتی ہیں۔ کشمیر کا مسئلہ زمین کا نہیں ایک زندہ قوم کا مسئلہ ہے جسے نظر انداز کرنا تاریخ کے سامنے ایک سنگین جرم ہوگا۔
ہماری طرف یہ بحث ہورہی ہے کہ کشمیر کا پاکستان کا الحاق ہونا چاہیئے بعض جماعتیں اور لوگ کشمیر کو خود مختار ملک قائم کرنے کے حامی ہیں بعض افراد اور عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی عوامی حقوق منوانے کی بات کرتی ہے یہ سب کا اپنا اپنا نکتہ نظر ہے اور یہ سب کا حق ہے لیکن الگ الگ نظریات رکھنے والوں کو غداری اور وفاداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنا اور کشمیریوں کا آپس میں الجھانا غیر حقیقت پسندانہ فعل ہے یہ اقتداری جماعتوں کو تو زیب دیتا ہے وہ سیاست میں اقتدار لینے کے لئے چاپلوسی کرتی ہیں لیکن ریاست کے لوگوں کو اس کا احساس کرنا ہوگا کہ باہمی طور پر الجھنا قوم اور ریاست کے مفادات میں نہیں ہے ایک آخری بات جو میری سمجھ میں آئی کہ اقوام متحدہ کی قرار دوں کہ زریعے کشمیر کا مسئلہ بین الاقوامی تو ہوگیا لیکن اس سے دنیا میں یہ تاثر گہرا ہوگیا کہ ریاست جموں و کشمیر کا مسئلہ دو ملکوں کے درمیان سرحدی تنازعہ ہے جبکہ پاکستان اور ہندوستان نے شملہ معاہدہ کرکے اس تاثر کو اور بھی گہرا کردیا اس سارے کھیل میں کشمیری عوام کا کردار آج بالکل نظر نہیں آرہا ہے جو قابل افسوس ہے کشمیر جب اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہورہا ہے نہ ہی شملہ معاہدے کے مطابق دو طرفہ کسی قسم کے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات ہیں تو پھر آ گئے کا راستہ کیا رہ جاتا ہے؟
Prev Post
Next Post