سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے سکیورٹی واپس لینے کی یقیناً کچھ وجوہات ہوں گی۔
سعدیہ جاوید کا کہنا تھا کہ شہر میں پولیس کی کمی ہے اور ممکن ہے اسی وجہ سے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے پولیس سکیورٹی واپس لی گئی ہو۔
انہوں نے کہا کہ میرے پاس خود کوئی پولیس سکیورٹی نہیں ہے اور سندھ حکومت کے ایم پی ایز کے پاس بھی سکیورٹی موجود نہیں، اس لیے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے سکیورٹی واپس لینے کے پیچھے یقیناً کوئی وجہ ہوگی۔
اسلام آباد میں غیر قانونی قبضے پر فوری کارروائی ہو گی، محسن نقوی
سعدیہ جاوید کا کہنا تھا کہ سندھ میں فارنزک لیب کا قائم نہ ہونا حکومت کی کوتاہی ہے، تاہم اس سال کے اختتام تک سندھ کی فارنزک لیب فعال ہو جائے گی۔
گل پلازہ کے متاثرین کی منتقلی سے متعلق سوال پر ترجمان سندھ حکومت نے بتایا کہ گل پلازہ کے سامنے دو پلازے موجود ہیں جہاں دکانداروں کو منتقل کیا جائے گا۔ حکومت اس حوالے سے پلازہ مالکان سے بات کر رہی ہے، ایک پلازہ میں 500 جبکہ دوسرے میں 350 دکانیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک کمیٹی گل پلازہ کے نقصان کا تخمینہ لگائے گی اور اس نقصان کا ازالہ حکومت کی جانب سے کیا جائے گا۔ کمیٹی تین ہفتوں کے اندر گل پلازہ کے نقصان سے متعلق رپورٹ حکومت کو پیش کرے گی۔
ترجمان سندھ حکومت کا کہنا تھا کہ کراچی میں پولیس کی کمی کے باعث ہی ممکنہ طور پر ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے سکیورٹی واپس لی گئی ہے۔