پاکستان میں ایک بار پھر انتظامی نقشہ بدلنے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ 28ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبائی حدود ازسرِنو متعین کرنے اور نئے صوبوں کے قیام کی مجوزہ تجویز نے سیاسی حلقوں، دانشوروں اور عوامی فورمز پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ بحث نئی نہیں، مگر اس بار معاملہ محض ایک یا دو صوبوں تک محدود نہیں بلکہ چاروں صوبوں کی ممکنہ تقسیم زیرِ غور بتائی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق سب سے بڑی اور حساس تبدیلی صوبہ پنجاب میں متوقع ہے، جہاں اسے ویسٹ پنجاب، جنوبی پنجاب، بہاولپور اور پوٹھوہار میں تقسیم کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ جنوبی پنجاب اور بہاولپور کے الگ صوبے کا مطالبہ عشروں پرانا ہے، جسے ہر دور میں سیاسی وعدوں کا حصہ تو بنایا گیا مگر عملی شکل نہ دی جا سکی۔ اب اگر واقعی اس سمت میں پیش رفت ہوتی ہے تو یہ محض انتظامی فیصلہ نہیں ہوگا بلکہ پنجاب کی سیاسی قوت کے توازن میں بھی بڑی تبدیلی ہوگی۔
سندھ کی مجوزہ تقسیم بھی کم متنازع نہیں۔ کراچی اور لوئر سندھ، اپر سندھ اور مہران کے نام سے تین اکائیوں کی تجویز دراصل اس پرانے سوال کو دوبارہ زندہ کرتی ہے کہ شہری و دیہی سندھ کے مسائل کا حل تقسیم میں ہے یا بہتر طرزِ حکمرانی میں۔ ماضی گواہ ہے کہ سندھ میں کسی بھی قسم کی تقسیم کی بات شدید سیاسی ردِعمل کو جنم دیتی رہی ہے، جسے نظرانداز کرنا وفاق کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
بلوچستان کی ممکنہ تقسیم، بلوچستان اور مکران کے نام سے، بظاہر انتظامی سہولت کے نام پر پیش کی جا رہی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کا اصل مسئلہ رقبہ نہیں بلکہ احساسِ محرومی، وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم اور سیاسی اعتماد کا فقدان ہے۔ اگر ان بنیادی سوالات کے جواب دیے بغیر نقشہ بدلا گیا تو خدشہ ہے کہ مسائل کم ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو جائیں گے۔
خیبر پختونخوا میں خیبر، جنوبی خیبر پختونخوا، ہزارہ اور کوہستان کے نام سے نئے صوبوں کی تجویز بھی ایک پرانی بحث کو تازہ کرتی ہے۔ ہزارہ صوبے کی تحریک ماضی میں جانیں لے چکی ہے، جبکہ جنوبی اضلاع کی محرومی بھی ایک تلخ حقیقت ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا نئی سرحدیں واقعی ان زخموں پر مرہم رکھ سکیں گی؟
قابلِ غور بات یہ بھی ہے کہ اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو بدستور وفاقی خطوں کی حیثیت دینے کی تجویز دی گئی ہے، حالانکہ گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کا معاملہ برسوں سے التوا کا شکار ہے۔ اگر آئینی ترمیم واقعی جامع ہے تو ان علاقوں کو ایک بار پھر انتظار گاہ میں کیوں رکھا جا رہا ہے؟
پاکستان کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ انتظامی فیصلے اگر سیاسی اتفاقِ رائے، عوامی مشاورت اور زمینی حقائق کے بغیر کیے جائیں تو وہ اصلاح کے بجائے انتشار کو جنم دیتے ہیں۔ نئے صوبوں کا قیام بذاتِ خود کوئی مسئلہ نہیں، مسئلہ نیت، طریقہ کار اور ترجیحات کا ہے۔ اگر مقصد واقعی عوام کو سہولت دینا ہے تو صرف نقشہ بدلنا کافی نہیں، نظام بدلنا ہوگا۔
فی الحال یہ تجویز ابتدائی مرحلے میں ہے، مگر اتنا طے ہے کہ اگر 28ویں آئینی ترمیم اس شکل میں آگے بڑھتی ہے تو یہ پاکستان کے وفاقی ڈھانچے میں ایک تاریخی موڑ ثابت ہو سکتی ہے یا ایک نیا تنازع۔
فیصلہ اب بھی وقت کے ہاتھ میں ہے، مگر سوال وہی پرانا ہے:
کیا ہم مسائل کا حل سرحدوں میں تلاش کر رہے ہیں یا خود سے نظریں چرا رہے ہیں؟