اسلام آباد: پاکستان علما کونسل نے افغان حکومت کے نئے فوجداری ضابطے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان علما کونسل کی جانب سے افغان حکومت کے احکامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ شریعت اسلامیہ کے نام پر معاشرے کو غلام اور آزاد طبقات میں تقسیم کرنا نہایت تشویشناک ہے، افغان حکومت کے یہ احکامات قرآن و سنت کی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتے اور ہندو مت کی تعلیمات سے مشابہ نظر آتے ہیں۔
کابینہ کی توثیق کے بعد ہی وزیراعظم نے غزہ پیس بورڈ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا: مشیر سیاسی امور
پاکستان علما کونسل کا کہنا ہے کہ افغان طالبان حکومت خود کو شرعی اسلامی حکومت قرار دیتی ہے، اس لیے اسے ان معاملات پر اپنا واضح مؤقف فوری طور پر عالمی برادری کے سامنے پیش کرنا چاہیے، عہدِ جاہلیت کے قوانین اور رسومات کو اسلام کے نام پر دوبارہ نافذ نہیں کیا جانا چاہیے۔
جاری کردہ اعلامیے میں پاکستان علما کونسل نے کہا کہ اختیار کیا گیا انداز انسانی وقار کی توہین اور تذلیل کے مترادف ہے، ایسے احکامات کو شرعی قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ جدید دور کی جاہلیت کی عکاسی کرتے ہیں۔