جنوبی ایشیا میں گرم دودھ میں دیسی گھی ملا کر پینے کی روایت صدیوں سے برقرار ہے جسے ماضی میں صرف بزرگوں کا ٹوٹکا سمجھا جاتا تھا، تاہم اب جدید سائنسی تحقیق اور طبی ماہرین بھی اس قدیم نسخے کے حیرت انگیز فوائد کی تصدیق کر رہے ہیں۔ عام طور پر اس مرکب کا استعمال سردیوں کے موسم میں اور رات کے وقت زیادہ کیا جاتا ہے کیونکہ ماہرین کے مطابق دودھ اور دیسی گھی کا یہ امتزاج نہ صرف انسانی جسم کو فوری توانائی فراہم کرتا ہے بلکہ مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
پاکستان کی فضائی حدود بھارتی طیاروں کیلئے بدستور بند
طبی نقطہ نظر سے دیسی گھی میں بٹیرک ایسڈ کی موجودگی اسے آنتوں کی صحت کے لیے انتہائی مفید بناتی ہے اور جب اسے گرم دودھ کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ نظامِ ہاضمہ کو تقویت دینے کے ساتھ ساتھ معدے کی کارکردگی کو بھی بہتر بناتا ہے۔ یہ مشروب غذائی اجزاء کو جسم کا حصہ بنانے میں معاون ثابت ہوتا ہے، جبکہ دودھ میں موجود پروٹین اور گھی کی صحت مند چکنائی جسم کو دیرپا توانائی فراہم کرتی ہے جس کی وجہ سے پٹھوں کی بحالی اور جسمانی قوتِ برداشت میں اضافہ ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ محنت کش طبقہ اور کھلاڑی اسے اپنی خوراک کا لازمی حصہ بناتے ہیں۔
اس روایتی نسخے کا ایک بڑا فائدہ نیند کے معیار میں بہتری لانا ہے کیونکہ گرم دودھ میں موجود ٹرپٹوفن نامی جز دماغ کو سکون پہنچاتا ہے اور دیسی گھی اس کے اثر کو مزید بڑھا دیتا ہے، جس سے گہری اور پُرسکون نیند حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس کے علاوہ ہڈیوں اور جوڑوں کی صحت کے لیے بھی یہ امتزاج نہایت کارگر ہے کیونکہ دودھ کیلشیم اور وٹامن ڈی فراہم کرتا ہے جبکہ دیسی گھی میں شامل وٹامن اے اور وٹامن کے ہڈیوں کی مضبوطی اور جوڑوں کی لچک برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ماہرینِ صحت اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر اس روایتی مشروب کو اعتدال کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ صحت کے لیے ایک بہترین قدرتی ٹانک ثابت ہو سکتا ہے۔ دودھ اور گھی کے اس سنگم سے نہ صرف جسمانی مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ یہ جوڑوں کے درد اور جسمانی کمزوری جیسے مسائل سے بچاؤ میں بھی معاون ہوتا ہے۔ قدیم روایات اور جدید سائنس کا یہ ملاپ ثابت کرتا ہے کہ قدرتی اجزاء پر مشتمل یہ سادہ نسخہ انسانی صحت کے لیے دورِ جدید کی مصنوعی خوراک سے کہیں بہتر ہے۔