اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے دوران پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا ہے۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے شہری غلام مرتضیٰ کی درخواست پر سماعت کی اور ریمارکس دیے کہ پی ٹی اے اور دیگر فریقین کے جوابات موصول ہو چکے ہیں مگر پی ٹی اے کا جواب مقدمے کی نوعیت کے مطابق نہیں ہے، لہٰذا اتھارٹی اپنے جواب پر دوبارہ غور کرے۔
لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی تمام منظور شدہ 60 اسامیوں کو پُر کرنے کا فیصلہ
دوران سماعت بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجا نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اس کیس سے متعلق مشاورت کے لیے ان کی اپنے موکل سے ملاقات نہیں کروائی جا سکی، جس کی وجہ سے کیس کی پیروی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ عدالت کا ملاقات کرانے کا حکم 4 نومبر کا ہے لیکن دو ماہ گزرنے کے باوجود اس پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔ وکیل نے عدالت سے استفسار کیا کہ کیا وہ آج جیل میں ملاقات کے لیے جا سکتے ہیں، جس پر عدالت نے مناسب حکم جاری کرنے کی یقین دہانی کروائی۔
عدالت نے بانی پی ٹی آئی سے سلمان اکرم راجا کی ملاقات نہ کروانے پر توہین عدالت کی درخواست پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد آفس سے تحریری جواب طلب کر لیا ہے۔ سرکاری وکیل نے عدالت میں یہ موقف اپنایا کہ ملاقاتوں سے متعلق کیسز کی سماعت کے لیے لارجر بینچ موجود ہے، تاہم عدالت نے ریمارکس دیے کہ جب تک وکیل کی اپنے موکل سے ملاقات نہیں ہوگی، یہ قانونی کارروائی آگے کیسے بڑھے گی۔ عدالت نے ہدایت کی کہ سرکاری فریق جو بھی کہنا چاہتا ہے وہ تحریری طور پر جمع کرائے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ اگر وکیل کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دی جائے گی تب ہی اس کیس کی مزید سماعت ممکن ہوگی۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر ملاقات ہو جاتی ہے تو کیس میں 24 فروری کو حتمی دلائل سنے جائیں گے۔ بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست پر تفصیلی جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 24 فروری تک کے لیے ملتوی کر دی۔