اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس میں واقع لیگل برانچ کو ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف ایک نئی ایف آئی آر منظر عام پر آنے کے بعد تالا لگا دیا گیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا جب متعلقہ حکام کو اس نئی قانونی پیش رفت کی اطلاع ملی۔
کمسن بچے کی شکایت پر وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کا لیڈی ریڈنگ اسپتال کا ہنگامی دورہ
ذرائع کے مطابق لیگل برانچ کے عملے پر ایف آئی آر کی معلومات لیک کرنے کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔ پولیس کے سینئر افسران کے احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے برانچ کو فوری طور پر بند کر دیا گیا تاکہ مزید تحقیقات کی جا سکیں۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف یہ ایف آئی آر گزشتہ سال جولائی میں درج کی گئی تھی تاہم اب تک اسے منظر عام سے دور رکھا گیا تھا۔ ریکارڈ کے مطابق ان دونوں شخصیات نے اس مخصوص ایف آئی آر میں اپنی ضمانت قبل از گرفتاری نہیں کروائی تھی۔
ایمان مزاری اور ہادی علی مذکورہ ایف آئی آر میں حفاظتی ضمانت کے حصول کے لیے گزشتہ روز سے ہائیکورٹ میں موجود ہیں۔ وہ اس قانونی پیچیدگی سے نمٹنے کے لیے عدالت عالیہ سے ریلیف حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔