sui northern 1

مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیل نے اقوام متحدہ کی عمارت مسمار کردی

مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیل نے اقوام متحدہ کی عمارت مسمار کردی

0
Social Wallet protection 2

اسرائیلی حکام نے مقبوضہ مشرقی یروشلم کے علاقے شیخ جراح میں واقع اقوام متحدہ کے فلسطینی مہاجرین کے ادارے انروا (UNRWA) کے ہیڈکوارٹر کو منہدم کر دیا ہے۔ خبر رساں اداروں کے فراہم کردہ بیان کے مطابق منگل کی صبح اسرائیلی بلڈوزرز کمپاؤنڈ کے اندر داخل ہوئے جہاں سے سکیورٹی اہلکاروں کو جبراً باہر نکالنے کے بعد عمارتوں کو مسمار کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا۔ اس کارروائی کے دوران عمارتوں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے جس پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

sui northern 2

انروا کے ترجمان جوناتھن فاؤلر نے اس اسرائیلی کارروائی کو ادارے پر ایک غیر معمولی حملہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کے قوانین اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر آج انروا جیسے ادارے کو اس طرح نشانہ بنایا جا رہا ہے تو مستقبل میں کسی بھی دوسرے بین الاقوامی ادارے یا سفارتی مشن کے ساتھ ایسا سلوک کیا جا سکتا ہے۔ اسی سلسلے میں انروا کے مغربی کنارے کے ڈائریکٹر رولینڈ فریڈرک نے اپنے موقف میں کہا ہے کہ یہ پورا اقدام خالصتاً سیاسی نوعیت کا ہے جس کا بنیادی مقصد زمین پر قبضہ کر کے وہاں یہودی آبادیاں تعمیر کرنا ہے اور اس ارادے کا اعتراف اسرائیلی حکام ماضی میں بھی کئی بار کر چکے ہیں۔

سعودی عرب، امریکا اور چین کی جانب سے سانحہ گل پلازہ پر اظہارِ افسوس

میڈیا رپورٹس اور اے ایف پی کی تصاویر میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ جس کمپاؤنڈ کو منہدم کیا گیا ہے وہاں اب اسرائیلی پرچم لہرا رہا ہے۔ اس موقع پر اسرائیل کے انتہاپسند وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے بھی منہدم شدہ جگہ کا دورہ کیا اور دعویٰ کیا کہ یہ مقام دہشت گردی کی حمایت کرنے والوں کے زیر استعمال تھا جس کی وجہ سے یہ کارروائی ناگزیر تھی۔ اسرائیلی وزارت خارجہ نے بھی اپنے بیان میں اس زمین کو اسرائیل کی ملکیت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انروا کو وہاں کسی قسم کا کوئی استثنا حاصل نہیں ہے، تاہم انروا حکام نے اس اسرائیلی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ جگہ اقوام متحدہ کی ملکیت ہے اور بین الاقوامی قوانین کے تحت اسے تحفظ حاصل ہے۔

ایک اور رپورٹ کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی بچوں کے ایک فٹبال کلب کو بھی مسمار کیے جانے کا خطرہ درپیش ہے حالانکہ اس کلب کو بچانے کے لیے عالمی سطح پر مہم چلائی جا رہی ہے۔ فلسطینیوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ یہ فٹبال کلب مہاجر کیمپوں میں رہنے والے بچوں کے لیے کھیل کود کا واحد ذریعہ اور موقع ہے لیکن اسرائیل نے اسے غیر قانونی قرار دے کر مسمار کرنے کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔ اس صورتحال نے مقبوضہ علاقوں میں انسانی حقوق اور بین الاقوامی اداروں کی املاک کے تحفظ کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.