افغانستان پُرامن طور پر رہنا چاہتا ہے یا نہیں اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا: وزیراعظم
افغانستان پُرامن طور پر رہنا چاہتا ہے یا نہیں اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا: وزیراعظم
**پشاور: وزیراعظم کا اہم بیان: "افغانستان کو پُرامن طور پر رہنے کا فیصلہ خود کرنا ہوگا”**
پشاور: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ افغانستان کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پُرامن طور پر رہنا چاہتا ہے یا نہیں۔ خیبرپختونخوا سکیورٹی ورک شاپ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں اور حکومت پائیدار امن قائم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ قومی سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے دہشتگردی کے خلاف سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ریاست اس ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب اگر ترقی کرتا ہے اور دیگر صوبے ترقی نہیں کرتے تو یہ پاکستان کی ترقی نہیں ہے۔ ملک اسی وقت ترقی کرے گا جب تمام صوبے ترقی کریں گے۔
اسلام آباد پولیس نے موبائل فون چھیننے اور انہیں افغانستان فروخت کرنے والے منظم گروہ کا خاتمہ کیا
وزیراعظم نے صوبائی تعاون کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کو 100 ارب روپے پنجاب نے اپنے حصے سے دیے۔ بلوچستان میں اہم سڑک اور سولر ٹیوب ویلز کے منصوبوں کے لیے وفاقی فنڈز فراہم کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے دیگر صوبوں نے اپنے حصے سے 800 ارب روپے دیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے ریفرنڈم میں پاکستان کے حق میں ووٹ دیا تھا۔
وزیراعظم نے فیلڈ مارشل کی قیادت میں بھارت کے خلاف جنگ میں کامیابی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال جنگ میں بھارت کے سات جنگی جہاز مار گرائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معاشی ترقی تیز ہو رہی ہے اور پاکستانی پاسپورٹ کی عزت بڑھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان معاشی طور پر مضبوط ہو رہا ہے جس سے ملک کا وقار دنیا بھر میں بلند ہوا ہے۔
وزیراعظم نے افغان عبوری حکومت سے اپیل کی کہ وہ اپنے عوام پر رحم کرے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو شدت پسندی سے بچا کر مثبت سمت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے افغان حکومت سے کہا کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ وہ پُرامن طور پر رہنا چاہتی ہے یا نہیں۔
وزیراعظم نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو عہدہ سنبھالنے پر فون کر کے مبارکباد دی تھی، جس پر وزیراعلیٰ نے شکریہ ادا کیا تھا لیکن اس کے بعد انہوں نے دوبارہ رابطہ نہیں کیا۔