کیا گرین لینڈ نیا پولینڈ بننے جا رہا ہے؟

تحریر اصف اقبال

0

دنیا کی تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ بڑی جنگیں اکثر ایک ایسے واقعے سے جنم لیتی ہیں جسے ابتدا میں معمولی یا علامتی سمجھ لیا جاتا ہے۔ آج عالمی سیاست میں جو ہلچل گرین لینڈ کے گرد نظر آ رہی ہے، وہ بھی کچھ ایسی ہی خطرناک مماثلت رکھتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اچانک نیٹو ممالک پر یکطرفہ طور پر 10 فیصد ٹیرف عائد کر کے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ قدم اب کیوں اٹھایا گیا؟ اس کی بنیادی وجہ وہ حالیہ پیش رفت ہے جس میں چند نیٹو ممالک نے گرین لینڈ کے تحفظ کے لیے وہاں اپنی علامتی فوج تعینات کی۔ ٹرمپ نے اس اقدام کو “Hostile Act” یعنی دشمنانہ عمل قرار دیا، کیونکہ وہ کھل کر اس خواہش کا اظہار کر چکے ہیں کہ گرین لینڈ کو امریکی اثر و رسوخ بلکہ امریکی پرچم کے نیچے لایا جائے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ اس امریکی خواہش کی مخالفت خود اس کے اتحادی نیٹو ممالک کر رہے ہیں۔
یہ تنازع صرف امریکہ اور یورپ تک محدود نہیں۔ اس پوری بساط پر ایک نہایت اہم کھلاڑی روس ہے۔ روسی قیادت پہلے ہی یہ عندیہ دے چکی ہے کہ اگر تیسری عالمی جنگ ہوئی تو اس کا مرکز آرکٹک ریجن ہو سکتا ہے۔ اس کی وجہ واضح ہے: آرکٹک کے تقریباً 53 فیصد حصے پر روس کا کنٹرول ہے۔ اگر امریکہ گرین لینڈ میں مستقل فوجی اڈے قائم کرتا ہے یا مجوزہ “گولڈن ڈوم” جیسے دفاعی نظام نصب کرتا ہے تو یہ روس کی سلامتی اور خطے میں اس کی اجارہ داری کے لیے براہِ راست چیلنج ہوگا۔
ان دو عالمی طاقتوں، امریکہ اور روس، کے درمیان یورپ بری طرح پس کر رہ گیا ہے۔ اگر ٹرمپ گرین لینڈ پر اپنا اثر و قبضہ مستحکم کر لیتے ہیں تو یہ یورپی یونین کی ساکھ کے لیے ایک زبردست دھچکا ہوگا۔ اس سے بھی بڑا خطرہ یہ ہے کہ نیٹو اتحاد عملاً غیر مؤثر یا ختم ہو سکتا ہے، اور یہ وہی بات ہے جس کی خواہش ٹرمپ طویل عرصے سے رکھتے آئے ہیں۔
اگر نیٹو کمزور یا ختم ہو جاتا ہے تو امریکہ پر آرٹیکل فائیو کے تحت یورپی ممالک کے دفاع کی کوئی اخلاقی یا قانونی ذمہ داری باقی نہیں رہے گی۔ اس صورت میں روس کو کھلا میدان مل سکتا ہے کہ وہ یوکرین کے بعد دیگر یورپی یا نیٹو ممالک پر بھی دباؤ بڑھائے یا جارحانہ اقدامات کرے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پورے یورپ میں “رشین فوبیا” ایک حقیقت بن چکا ہے۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل کھل کر کہہ چکے ہیں کہ یورپ کو ایسی جنگی صورتحال کے لیے تیار رہنا ہوگا جیسی جنگ ہمارے دادا پردادا نے لڑی تھی۔ فرانس کے آرمی چیف نے تو یہاں تک کہا ہے کہ ہمیں ایسی جنگ کا سامنا ہو سکتا ہے جس میں ہمارے بہت سے بچے اپنی جانیں قربان کریں گے۔ لتھوانیا، سویڈن اور ڈنمارک جیسے ممالک نے اپنے شہریوں کو باقاعدہ ایڈوائزریز جاری کر دی ہیں کہ جنگ جیسی صورتحال میں کیا اشیاء اپنے پاس رکھنی چاہئیں۔
عالمی سطح پر ان کشیدگیوں کے اثرات معیشت پر بھی صاف نظر آ رہے ہیں۔ اگرچہ دنیا کو مجموعی نقصان کا درست اندازہ لگانا ابھی ممکن نہیں، لیکن یہ واضح ہے کہ اگر ریٹیل سرمایہ کاروں نے بروقت توجہ نہ دی تو ان کے پورٹ فولیوز شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔ شاید اسی خدشے کے پیش نظر گزشتہ ایک سال سے بڑے سرمایہ کار اپنا سرمایہ سونے، چاندی، تانبے اور حتیٰ کہ بٹ کوائن جیسے ہارڈ اثاثوں کی طرف منتقل کر رہے ہیں۔
تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو ہمیں یاد آتا ہے کہ ایڈولف ہٹلر کو بھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ پولینڈ کے ایک چھوٹے سے حصے پر قبضہ دوسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ بن جائے گا۔ آج یہ سوال پوری دنیا کے سامنے ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ٹرمپ کے لیے گرین لینڈ وہی کردار ادا کر جائے جو ہٹلر کے لیے پولینڈ بنا تھا؟
اگر عالمی طاقتوں نے ہوش مندی، سفارت کاری اور تحمل کا مظاہرہ نہ کیا تو تاریخ خود کو دہرانے میں دیر نہیں لگاتی اور اس بار قیمت پوری انسانیت کو چکانا پڑ سکتی ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.