عدالت نے متنازعہ ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو پیش نہ کرنے پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں 24 گھنٹے کے اندر گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
آزاد کشمیر کے نوجوان کی بہادری سے کینیڈا میں پاکستان کا نام روشن
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں منعقدہ سماعت کے دوران جج افضل مجوکہ نے اسلام آباد پولیس کے ڈی آئی جی جواد طارق سے سخت لہجے میں سوال کیا، "وارنٹ جاری ہوا، عمل کیوں نہیں ہوا؟ اسلام آباد میں وارنٹ پر عمل نہ ہونا کیا ثابت کرتا ہے؟” جج نے مزید کہا، "ان کو پاکستان سے اٹھائیں، انڈیا سے یا افغانستان سے… وہ سمندر پر ہیں یا آسمان پر ہیں، مجھے وارنٹ کی تعمیل چاہیے۔ مجھے 24 گھنٹے کے اندر وارنٹس پر عمل درآمد چاہیے۔”
عدالت نے وارنٹ کی تکمیل نہ ہونے کی صورت میں توہین عدالت کی کارروائی کی بھی نشاندہی کی۔ سماعت کے آغاز پر ہی جج نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر کی عدم پیشی پر ڈی آئی جی آپریشنز اور ایف آئی اے کے ڈائریکٹر کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں طلب کیا تھا۔
ڈی آئی جی نے عدالت کو یقین دلایا کہ وارنٹس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ اس کے بعد عدالت نے سماعت ملتوی کر دی۔