وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب مل کر ویکسین تیار کریں گے اور اس سلسلے میں دونوں ممالک نے خصوصی کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں۔
کراچی ملک کا انتہائی اہم شہر ہے اسے تھریٹس موجود ہیں، وزیر داخلہ سندھ
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر بات چیت کے لیے سعودی عرب سے ایک وفد رواں ماہ پاکستان آ رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملکی تاریخ کی پہلی قومی ویکسین پالیسی تیار کر لی گئی ہے۔
وزیر صحت نے بتایا کہ حکومت ملک میں بچوں کو 13 ویکسینز مفت لگا رہی ہے، اور سروائیکل کینسر ویکسین کو روٹین ایمونائزیشن کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو فی الحال عالمی شراکت داروں سے ویکسین مل رہی ہے، جس کی سالانہ ضرورت 114 ملین ڈوز ہے۔ تاہم، 2030 تک عالمی معاونت ختم ہونے کی صورت میں پاکستان کو سالانہ 1.2 بلین ڈالر کی ویکسین درآمد کرنی پڑے گی۔ اس سے قبل، سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ طور پر مقامی سطح پر ویکسین سازی شروع کر دی جائے گی۔