بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی پاسداری ضروری ہے، پاکستان کا وینزویلا کی صورتحال پر اظہار تشویش

بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی پاسداری ضروری ہے، پاکستان کا وینزویلا کی صورتحال پر اظہار تشویش

0

پاکستان نے وینزویلا کے عوام کی فلاح و بہبود کو اہم قرار دیتے ہوئے وہاں کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے امریکی حملے کے بعد وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری کے تناظر میں جاری بیان میں کہا ہے کہ پاکستان بحران کے خاتمے کے لیے تحمل اور کشیدگی میں کمی پر زور دیتا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تنازعات کے حل کے لیے اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی پاسداری ضروری ہے، جبکہ حکومتِ پاکستان وینزویلا میں ہونے والی پیش رفت پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور وہاں مقیم پاکستانی برادری کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اداروں سے رابطے میں ہے۔

وینزویلا کے سیاسی بحران کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی

واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی فوج نے وینزویلا کے دارالحکومت کاراکس سمیت مختلف علاقوں میں حملے کیے تھے، جس کے بعد صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لے کر امریکا منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس صورتحال میں وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے عدالتی حکم کے تحت عارضی طور پر صدارتی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں اور انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے نکولس مادورو کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

عالمی برادری کی جانب سے وینزویلا پر امریکی حملے کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے، جہاں چین نے صدر مادورو کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے تو دوسری جانب ملائیشیا اور اسپین نے اس امریکی اقدام کو عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ فرانس نے اپنے ردعمل میں کہا کہ وینزویلا کا مستقبل صرف وہاں کے عوام ہی طے کر سکتے ہیں، جبکہ امریکا کی سابق نائب صدر کاملا ہیرس نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے اقدامات سے امریکا نہ محفوظ ہوا اور نہ ہی مضبوط۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے وینزویلا کے ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطے میں اسے دہشت گردی کی بدترین مثال قرار دیا، جبکہ مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے بھی انسانی حقوق کے احترام پر زور دیا ہے۔ اس تمام تر صورتحال پر غور کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس کل طلب کر لیا گیا ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.