پنجاب حکومت نے نئے سال کے پہلے روز ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے 9 سرکاری محکمے ختم کر دیے ہیں، جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق ان اداروں کو ختم کر کے نئے قائم کردہ ‘محکمہ فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن’ میں ضم کر دیا گیا ہے۔ سروس اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے نوٹیفکیشن کے مطابق یہ تمام ادارے اب نئے محکمے کے ماتحت کام کریں گے، جو فوری طور پر فعال ہو جائے گا اور ان تمام ضم شدہ اداروں کا ایک ہی سیکرٹری اور ایک ہی ڈائریکٹر جنرل ہوگا۔
امریکا میں تاریخ رقم، قرآن پر حلف اٹھا کر زہران ممدانی نیویارک کے پہلے مسلم میئر بن گئے
جن اداروں کو فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن میں شامل کیا گیا ہے ان میں پنجاب فوڈ اتھارٹی، انفورسمنٹ پرائس اینڈ کنٹرول، فوڈ کین کمشنر، ایگریکلچر اکنامک مارکیٹنگ، انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچر مارکیٹنگ، کنزیومر پروٹیکشن کونسل، پنجاب سہولت بازار اتھارٹی اور پنجاب حلال ڈویلپمنٹ ایجنسی شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان محکموں کو ختم کرنے کا فیصلہ حکومت کے بچت پروگرام کے تحت کیا گیا ہے اور اس عمل کے دوران موجود اضافی افسران کے تبادلے بھی کیے جائیں گے۔
اس کے علاوہ پنجاب حکومت کی جانب سے پہلی مرتبہ تعلیم کے لیے 46 ارب روپے کے ریکارڈ فنڈز مختص کرنے کی خبر بھی سامنے آئی ہے، جبکہ دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت اور سہیل آفریدی کی جانب سے دورہ لاہور کے موقع پر پنجاب حکومت کے رویے اور رکاوٹوں کے حوالے سے شکایات کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔