پاکستان نے برکس گروپ میں شمولیت کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس تنظیم کے فریم ورک میں تعمیری کردار ادا کر سکتا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آذربائیجان اور روسی میڈیا کو دیے گئے انٹرویوز میں پاکستان کی معاشی پالیسیوں اور علاقائی تعاون پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے روسی خبررساں ایجنسی ریا نووستی کو بتایا کہ پاکستان پہلے ہی شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن ہے اور برکس میں بھی فعال شراکت دے سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحد پار ادائیگیوں کے متبادل نظاموں پر غور کیا جا رہا ہے، اور برکس کے ساتھ تعلقات میں اضافے کی صورت میں پاکستان ایسے نظاموں کا جائزہ لے گا۔
نقاب کھینچنے کا واقعہ: ایمنسٹی انٹرنیشنل عورت کی عزت پر سنگین حملہ قرار دے دیا
معیشت کے حوالے سے وزیر خزانہ نے بتایا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آ رہی ہے، جو تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے برابر ہیں، اور یہ صورت حال سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ترجیح معاشی استحکام ہے، جس کے لیے منصوبہ وار بنیادوں پر ضمانتیں اور ایکسپورٹ کریڈٹ کی سہولتیں فراہم کی جا سکتی ہیں۔
ڈیجیٹل اثاثوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک ڈیجیٹل کرنسیوں کا جائزہ لے رہا ہے اور حکومت کا ہدف اس شعبے کو باقاعدہ ریگولیٹڈ فریم ورک میں لانا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے میدان میں پاکستان کے لیے روس کے تجربات سے سیکھنے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
علاقائی تعاون کے ضمن میں انہوں نے انٹرنیشنل نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور اور توانائی، معدنیات اور صنعتی شعبوں میں روس کے ساتھ شراکت کے امکانات پر بات کی۔
آذربائیجان کی ایجنسی رپورٹ کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات اب معاشی تعاون میں بدل رہے ہیں، اور آذربائیجان نے پاکستان میں دو ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے جنوبی جنوبی تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نئے تجارتی راستوں کی ضرورت ہے اور پاکستان، وسطی ایشیا اور آذربائیجان کے درمیان تجارت کو بڑھانے کے لیے مالیاتی آلات کو فروغ دینا ہوگا۔