سجاول/کراچی: ابھرتی ہوئی وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن مہجبین ذوالفقار علی جمعہ کی علی الصبح ایک نجی اسپتال میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئیں۔ انہیں الرجک ری ایکشن کے بعد ہائپوکسیا کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے بعد انہیں کراچی کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ آخری وقت تک ڈاکٹروں کی نگرانی اور علاج کے تحت رہیں۔
28 سالہ مہجبین کی پیدائش 18 جون 1997 کو کراچی میں ہوئی اور ان کا تعلق ضلع سجاول کے گاؤں ٹر کھوکھرا سے تھا۔ انہوں نے شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لا سے بیچلر آف لاز کی ڈگری مکمل کی اور منگی اینڈ منگی لا ایسوسی ایٹس میں شمولیت اختیار کرکے کراچی میں وکالت کا آغاز کیا۔
وہ سندھ ہیومن رائٹس کمیشن، مساوی، اور لیگل ایڈ سوسائٹی سے وابستہ رہیں اور بالخصوص خواتین کے حقوق، وراثت، اور جائیداد سے متعلق مختلف قانونی مقدمات میں خدمات انجام دیتی رہیں۔ مہجبین نے حیدرآباد اور کراچی ڈویژن کے مختلف علاقوں میں شادی کے حقوق، گھریلو تشدد کے قوانین اور بچوں کے حقوق سے متعلق سیشنز کی میزبانی اور تربیت بھی کی۔
ان کے انتقال پر قانونی برادری نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، اور کراچی بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری غلام رحمان کورائی، سابق خزانچی راحیل سماسام علی خان، ایڈووکیٹ امان اللہ مہر، ایڈووکیٹ راشد حسین، نوناری، ندیم منگی، اور ایڈووکیٹ فیض احمد چانڈیو سمیت دیگر نے اس نوجوان وکیل کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔
کراچی بار ایسوسی ایشن کے آئندہ انتخابات میں حصہ لینے والے متعدد امیدواروں نے ان کی وفات پر اپنی انتخابی مہم معطل کر دی۔ مہجبین کو ان کے آبائی قبرستان ٹر کھوکھرا میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔