وقت کے سکے
بڑے بوڑھے کہا کرتے تھے کہ وقت وہ ظالم ہے جو پلٹ کر کبھی نہیں آتا۔ ہم سب نے اس وقت کو ہنستے کھیلتے گزار دیا، اور اب جب پلٹ کر دیکھتے ہیں تو دل چاہتا ہے کہ کاش زندگی ایک بار پھر وہیں لوٹ جائے جہاں "پھوتی کوری” اور "ٹیڈی پیسہ” بھی بڑی دولت ہوا کرتے تھے۔
میرے دادا جی اکثر بتایا کرتے تھے کہ ایک پھوٹی کوری میں دھنیا پدینہ آ جاتا تھا۔ چونی سے سکول جاتے بچوں کے لیے پاپڑ اور مٹھائی خریدی جاتی تھی۔ کسی بچے کے پاس اٹھنی آ جاتی تو وہ محلے کے ہیرو بن جاتے۔ اس دور میں روپے کی طاقت اتنی زیادہ تھی کہ اگر کسی کی جیب میں دس کا نوٹ ہوتا تو وہ خود کو رئیس سمجھتا۔ اور آج؟ آج دس کا نوٹ ہمارے جیب میں ہو تو شرمندگی کے مارے ہم کسی دکاندار کو دیتے ہوئے بھی کتراتے ہیں۔
ساٹھ اور ستر کی دہائی کا روپیہ
ساٹھ اور ستر کی دہائیاں وہ تھیں جب ایک روپے کے نوٹ کی وقعت پورے گھر کے سودا سلف تک تھی۔ آٹھ آنے میں سالن، چار آنے میں دہی، اور دو آنے میں آلو مل جاتے۔ پانچ روپے کا سلامی نوٹ شادیوں میں فخر سے دیا جاتا اور دل خوشی سے جھوم اٹھتا۔ آج پانچ ہزار بھی دے دیں تو لینے والا دل ہی دل میں سوچتا ہے: "بس اتنا ہی؟”
نوے کی دہائی کی خوشبو
نوے کی دہائی تک آتے آتے حالات بدلنے لگے، مگر تب بھی خوشبو باقی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ جیب خرچ دو روپے تھا۔ انہی پیسوں کو بچا بچا کر 115 روپے اکٹھے کیے اور ایک سی اے کمپنی کا ہارڈ بال بیٹ خریدا۔ وہ لمحہ میری زندگی کا سب سے قیمتی لمحہ تھا۔ آج وہی بیٹ 64 ہزار سے لے کر ایک لاکھ اسی ہزار تک جا پہنچا ہے۔ لیکن سچ پوچھیں تو وہ بیٹ اپنی قیمت نہیں، اپنے خوابوں کے سبب قیمتی تھا۔ آج لاکھوں کے بیٹ خرید لیجیے، مگر اس خوشی کا نعم البدل نہیں مل سکتا۔
اشیائے ضروریہ اور بل
اسی دور میں پٹرول چھ سے آٹھ روپے لٹر تھا۔ موٹر سائیکل پر پورے شہر کی سیر ہو جاتی اور جیب پر بوجھ نہ پڑتا۔ بجلی کے بل 150 سے 200 روپے کے درمیان آتے اور والدین مطمئن ہو جاتے۔
چینی پانچ روپے کلو، آٹا ڈھائی روپے، گھی بارہ روپے، سبزیاں بس چند سکوں میں۔ گوشت غریب آدمی کے لیے بھی خواب نہیں تھا بلکہ حقیقت تھی۔ سینما کے ٹکٹ دو سے پانچ روپے کے، اور ہفتہ وار خوشی بس اتنی سی تھی کہ فلم دیکھی، گولا گنڈا کھایا، اور دوستوں کے ساتھ ہنسی مذاق کر لیا۔
اصل دولت کیا تھی؟
اصل کمال روپے کی قوت یا اشیا کی قیمتوں میں نہیں تھا۔ اصل کمال اس دور کے سکون اور خلوص میں تھا۔ وہ دن جب بجلی بند ہو تو پورا محلہ صحن میں چارپائیاں ڈال کر بیٹھ جاتا۔ وہ راتیں جب والدین کہانی سناتے اور بچے آنکھوں میں خواب لیے سو جاتے۔ وہ وقت جب ایک آنے کا گولا گنڈا پانچ دوست مل کر کھاتے اور کسی کو یہ فکر نہ ہوتی کہ کس کا حصہ زیادہ ہے۔
آج کی نسل کے نام
آج کی نسل کے لیے یہ سب شاید ناقابلِ یقین کہانیاں ہوں۔ ان کے لیے خوشی برانڈڈ کپڑوں، مہنگے موبائلز اور فائیو اسٹار ہوٹلوں کے کھانوں کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ اصل خوشی وہ تھی جب چار آنے کی مٹھائی جیب میں ہوتی تو دل سمجھتا تھا جیسے دنیا فتح کر لی ہے۔
وقت بدل گیا، قیمتیں آسمان پر جا پہنچیں، چیزیں نایاب ہو گئیں۔ مگر سب سے بڑی نایاب شے وہ محبت ہے جو رشتوں میں تھی۔ آج ہر چیز مہنگی ہے، مگر محبتیں سستی ہو گئی ہیں۔ اس لیے نئی نسل کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اصل خوشی روپے یا آنے میں نہیں، بلکہ سادہ لمحوں، محبتوں اور خلوص میں ہے۔
چند دن پہلے ایک پرانا دوست ملا۔ ہاتھ میں دس روپے کا نوٹ تھا، بچوں کے سامنے فخر سے ہنس کر کہنے لگا:
"کبھی یہ نوٹ میرے لیے بادشاہت کی علامت تھا۔”
بچے ہنس پڑے اور بولے:
"چاچو! یہ تو اب ٹافی بھی نہیں لاتا۔”
اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی اور آہستہ بولا:
"ہاں بیٹا! یہ ٹافی نہیں لاتا، لیکن کبھی یہ پوری خوشیاں لا دیتا تھا۔”