دنیا کی سیاست کبھی تیل پر گھومتی تھی، کبھی گیس پر، اور کبھی سونے پر۔ مگر آج کا دور ایک نئی دوڑ دیکھ رہا ہے—وہ ہے ریئر ارتھ معدنیات کی دوڑ۔ یہ وہ قیمتی دھاتیں اور معدنیات ہیں جن کے بغیر نہ ایٹمی ٹیکنالوجی چل سکتی ہے، نہ جنگی ساز و سامان تیار ہو سکتا ہے، نہ موبائل اور نہ ہی برقی گاڑیاں۔
چین اس وقت دنیا کی سب سے بڑی پیداوار کا مالک ہے، مگر جب اس نے اپنی برآمدات پر پابندی لگائی تو امریکہ اور یورپ لرز گئے۔ ایسے میں ایک نیا نام ابھرا—پاکستان۔
پاکستان اچانک کیوں مرکز بن گیا؟
گلگت بلتستان اور شمالی علاقوں میں ہونے والی حالیہ تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان کے پاس دنیا کے اہم ترین ریئر ارتھ معدنیات کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔ اندازہ ہے کہ یہاں کم از کم 50 ملین ٹن تک کا زخیرہ پایا جاتا ہے، جو پاکستان کو عالمی سطح پر "گیم چینجر” بنا سکتا ہے۔
ریئر ارتھ معدنیات کے نام (34)
1. Scandium (اسکینڈیئم)
2. Yttrium (ایٹریئم)
3. Lanthanum (لانتھینم)
4. Cerium (سیریئم)
5. Praseodymium (پراسیوڈی میئم)
6. Neodymium (نیوڈیمیم)
7. Promethium (پرومیٹھیئم)
8. Samarium (سیمیریم)
9. Europium (یوروپیئم)
10. Gadolinium (گیڈولینیم)
11. Terbium (ٹربیئم)
12. Dysprosium (ڈسپروزیم)
13. Holmium (ہولمیم)
14. Erbium (ایربیئم)
15. Thulium (تھولیم)
16. Ytterbium (ایٹر بیئم)
17. Lutetium (لیوٹیشیئم)
یہ بنیادی 17 ریئر ارتھ عناصر ہیں، لیکن ان کے ساتھ اور بھی اہم معدنیات جڑی ہوئی ہیں، جو ان عناصر کو نکالنے اور استعمال کے لیے ضروری ہیں:
18. Bastnäsite (بسٹ نائسائٹ)
19. Monazite (مونا زائٹ)
20. Xenotime (زینو ٹائم)
21. Allanite (ایلانائٹ)
22. Loparite (لوپارائٹ)
23. Apatite (اپیٹائٹ)
24. Fluorocarbonates (فلوورو کاربونیٹس)
25. Parisite (پیریسائٹ)
26. Synchisite (سنکھی سائٹ)
27. Eudialyte (یودیالائٹ)
28. Fergusonite (فرگوسونائٹ)
29. Zircon (زرکون)
30. Titanite (ٹائٹانائٹ یا سفین)
31. Columbite-Tantalite (کولمبائٹ ٹینٹالائٹ)
32. Ilmenite (ایلمنائٹ)
33. Rutile (روٹائل)
34. Cassiterite (کاسیٹریٹ)
یہی وہ فہرست ہے جس نے پاکستان کو اچانک عالمی نقشے پر نمایاں کر دیا ہے۔
ان معدنیات کی اہمیت
یہ معدنیات چھوٹی لگنے والی چمکتی کنکریاں نہیں، بلکہ جدید دنیا کی ریڑھ کی ہڈی ہیں:
نیوڈیمیم اور ڈسپروزیم: برقی گاڑیوں اور ونڈ ٹربائن کے طاقتور میگنیٹس میں ضروری۔
یوروپیئم اور ٹربیئم: موبائل، ٹی وی اور LED سکرینز میں رنگ اور روشنی کے لیے بنیادی۔
سیمیریم اور گیڈولینیم: ایٹمی ری ایکٹرز اور دفاعی ٹیکنالوجی میں استعمال۔
باسٹ نائسائٹ اور مونا زائٹ: ریئر ارتھ عناصر کے بڑے ذخائر کی کان کنی کا ذریعہ۔
یوں کہیے کہ بغیر ان معدنیات کے آج کا کمپیوٹر، موبائل، ہتھیار یا ایٹمی طاقت ناممکن ہے۔
امریکہ، چین اور پاکستان کی پوزیشن
چین نے اپنی پالیسی سے دنیا کو دکھا دیا کہ اگر یہ دھاتیں روک لیں تو عالمی صنعت رک سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور یورپ اب متبادل تلاش کر رہے ہیں۔ اور تبھی ان کی نگاہ پاکستان پر جا ٹکی۔
گلگت بلتستان، جو کبھی محض سیاحتی جنت سمجھا جاتا تھا، آج عالمی سرمایہ کاری کا میدان جنگ بن سکتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس موقع سے فائدہ اٹھا پائیں گے؟
پاکستان کے پاس دولتِ زمین موجود ہے، مگر کیا ہمارے ادارے، حکومت اور قیادت اس دولت کو عوامی خوشحالی میں بدل پائیں گے؟ یا یہ خزانہ بھی کرپشن اور نااہلی کے نرغے میں آ کر ضائع ہو جائے گا؟
جب ٹرمپ جیسے رہنما پاکستان کی طرف "I Love Pakistan” کے نعرے لگاتے ہیں تو ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ یہ محبت ہمارے عوام کے لیے نہیں، بلکہ ہماری زمین کی دولت کے لیے ہے۔
پاکستان کے پاس اب تیل یا گیس نہیں بلکہ ریئر ارتھ معدنیات کے وہ ذخائر ہیں جن پر مستقبل کی جنگیں اور معیشتیں کھڑی ہوں گی۔ یہ لمحہ پاکستان کے لیے امتحان ہے:
یا تو ہم دنیا کی ضرورت بن کر اپنے عوام کو خوشحال کریں،
یا پھر اپنے ہی خزانے دوسروں کے قدموں میں رکھ کر محروم رہیں۔