قسط ایک سو ستاون
تیرہ سال یہ کوئی مختصر عرصہ نہیں۔ یہ وہ وقت ہے جس میں قومیں اپنی تقدیر بدلتی ہیں۔ خیبرپختونخوا کے عوام نے 2013 میں تحریک انصاف پر جو اعتماد کیا، آج اس کے ثمرات پورا صوبہ دیکھ رہا ہے۔ عمران خان نے "تبدیلی” کا جو نعرہ لگایا تھا، وہ خیبرپختونخوا کی گلی گلی میں حقیقت بن کر ابھرا۔2013 میں خیبرپختونخوا کے 6,000 سے زائد سکول فرنیچر اور بنیادی سہولیات سے محروم تھے۔ آج تقریباً 80 فیصد سکولوں کو بہتر انفراسٹرکچر فراہم کیا جا چکا ہے۔70 ہزار سے زائد اساتذہ میرٹ پر بھرتی کیے گئے۔ 2013 میں صوبے کے 40 لاکھ بچے سکول سے باہر تھے، آج ان میں سے تقریباً 10 لاکھ بچے دوبارہ سکولوں میں داخل ہو چکے ہیں
پاکستان تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں 18 نئی یونیورسٹیاں قائم کیں ۔ جن میں 3 یونیورسٹیاں صرف خواتین کے لیے قائم کی ۔ 1یونیورسٹی آف ایبٹ آباد
2 وومن یونیورسٹی صوابی
3 وومن یونیورسٹی مردان
4 بونیر یونیورسٹی
5 زرعی یونیورسٹی ڈی آئی خان
6 چترال یونیورسٹی
7 لکی مروت یونیورسٹی
8 انجینئرنگ یونیورسٹی مردان
9 یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نوشہرہ
10 پاک آسٹریلیا یونیورسٹی ہری پور
11 یونیورسٹی آف انجینئرنگ سوات
12 یونیورسٹی آف ایگریکلچر سوات
13 یونیورسٹی آف ویٹرنری سائنسز سوات
14 یونیورسٹی اف شانگلہ
جبکہ مندرجہ ذیل یونیورسٹیاں کی منظوری دی ۔
15 یونیورسٹی آف ہنگو
16 شمالی وزیرستان یونیورسٹی
17 کامسیٹس یونیورسٹی کوہاٹ
18 وومن یونیورسٹی کوہاٹ
یہ کوئی عام اصلاحات نہیں بلکہ ایک تعلیمی انقلاب ہےصحت انصاف کارڈ: ہر گھر کا سہارا پی ٹی آئی کی حکومت نے خیبرپختونخوا کو پاکستان کا پہلا صوبہ بنایا جہاں ہر شہری کو ہیلتھ انشورنس ملی۔80 لاکھ خاندان اس کارڈ سے مستفید ہوئے صرف 2021–22 میں 25 ارب روپے سے زائد کے مفت علاج اس کارڈ کے ذریعے ممکن ہوئے۔دل، گردے اور جگر کے بڑے آپریشنز سے لے کر پیچیدہ بیماریوں تک علاج عوام کی پہنچ میں آیا۔ یہ سہولت ہر گھر کے لیے تحفظ کی ضمانت بنی۔
پہلے خیبرپختونخوا پولیس پر عوام کو اعتماد نہیں تھا، مگر آج اسے پورے ملک میں مثالی پولیس سمجھا جاتا ہے۔2013 کے بعد سے 10 ہزار سے زائد جوان جدید تربیت کے ساتھ بھرتی کیے گئے۔تھانوں میں ای-ایف آئی آر سسٹم متعارف کرایا گیا۔کرپشن اور سیاسی دباؤ سے آزادی نے پولیس کو اصل معنوں میں عوام کی خدمت گزار بنا دیا۔
خیبرپختونخوا کے دریاؤں سے نکلنے والی بجلی نے اندھیروں کو دور کرنے میں کردار ادا کیا۔
صوبے نے 350 میگاواٹ سے زائد پن بجلی پیدا کی۔مزید 2,000 میگاواٹ کے منصوبے زیرِ تکمیل ہیں۔صوبے بھر میں 13 ہزار کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر و مرمت کی گئی۔یہ ترقی صرف انفراسٹرکچر نہیں بلکہ خوشحالی کی علامت ہے۔
پی ٹی آئی حکومت کے اقدامات نے سیاحت کو نئی جان بخشی۔
2013 میں خیبرپختونخوا میں صرف 7 لاکھ سیاح آئے تھے، جبکہ اب یہ تعداد بڑھ کر 2 کروڑ سے زائد ہو گئی۔”ٹورازم پولیس” اور انفراسٹرکچر نے سیاحوں کو اعتماد دیا۔سوات اور گلیات دنیا بھر کے سیاحوں کا مرکز بن گئے۔ پاکستان کی تاریخ میں سب سے مضبوط بلدیاتی نظام خیبرپختونخوا میں آیا۔30 فیصد ترقیاتی بجٹ بلدیاتی نمائندوں کے ذریعے عوامی منصوبوں پر خرچ ہوا۔گاؤں اور محلے کی سطح پر سڑکوں، نالیوں، اسکولوں اور ہسپتالوں کے فیصلے عوام نے خود کیے یہ اعداد و شمار کسی ایک حکومت کے دعوے نہیں بلکہ حقیقت ہیں۔ خیبرپختونخوا کی 13 سالہ تحریک انصاف حکومت نے تعلیم، صحت، پولیس، توانائی اور سیاحت میں ایسے نقوش چھوڑے ہیں جو باقی صوبوں کے لیے مثال بن گئے ہیں۔ یہ سفر صرف ترقیاتی منصوبوں کا نہیں، بلکہ عوام کے اعتماد، عزتِ نفس اور شعور کا ہے۔ اگر یہ سفر جاری رہا تو خیبرپختونخوا پاکستان کا سب سے خوشحال اور ترقی یافتہ صوبہ بننے میں دیر نہیں لگائے گا۔