اسٹیبلشمنٹ کو عمران خان سے بات کرنی چاہیے
میں نے اپنے ایک گزشتہ کالم میں بڑے وثوق کے ساتھ یہ لکھا تھا کہ عمران خان آرمی کے خلاف نہیں ہیں اور نہ ہی ہوسکتے ہیں‘ یہ کالم اس لئے لکھا گیاتھا کہ موجودہ فارم47کے تحت بننے والی حکومت عمران خان کو اسٹییبلشمنٹ سے دور رکھ کر اپنا الو سیدھا کرناچاہتی ہے۔ نیز یہ حقیقت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ موجودہ حکومت سے پاکستان کے سیاسی ومعاشرتی حالات سنبھل نہیں پارہے ہیں۔ اکانومی کا پہیہ چل نہیں رہا ہے۔ جبکہ چین سمیت بعض ممالک سے ’’ قرض‘‘ کے لئے درخواست پربھی خاطرخواہ نتیجہ برآمد نہیں ہواہے۔ مزید برآں حکومتی اخراجات میں کسی قسم کی کمی دیکھنے میں نہیںآرہی ہے ۔ لیکن اللے تللے اخراجات کئے جارہے ہیں۔ جس کی وجہ سے اکانومی مزید زوال پذیر ہورہی ہے موجودہ حکومت کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان میں تدبر کی شدید کمی ہے‘ محض قرضوں پر انحصار کرتے ہوئے ملک کی معیشت کو چلاناموجودہ عالمی حالات کے پس منظر میں جوئے شیر لانے کے برابر ہے۔اس پس منظر میں پی پی پی کا یہ کہناکہ اسمبلی کو تحلیل کرکے دوبارہ انتخابات کرائے جائیں۔ ایک معقول ومناسب مشورہ ہے۔ لیکن شریف خاندان ہرصورت میں اقتدار میں چمٹا رہناچاہتاہے‘ چاہے معاشرہ اور ملک کا بیڑا غرق ہوجائے۔
اس لئے پاکستان کے موجودہ ناگزیر حالات کو بہتربنانے کے لئے یہ اشد ضروری ہے کہ جرنیلوں اور عمران خان کے درمیان فی الفور بات چیت ہونی چاہیے تاکہ پاکستان کو مستحکم بنیادوں پر کھڑا کیاجاسکے اور اس کے ساتھ ہی عوام کے معاشی وسماجی مسائل پر خصوصی توجہ دیکر ان کو حل کرنے کے لئے سنجیدگی کے ساتھ توجہ دی جانی چاہیے ۔یہ اس ہی وقت ہوسکتاہے جب ملک میں امن قائم ہو اور محسوس بھی کیاجائے ۔ چنانچہ ملک کے موجودہ بحران کا واحد حل یہ ہے کہ عمران خان اور اسٹیلبشمنٹ کے درمیان بات چیت ضروری ہے تاکہ کوئی مناسب راستہ نکل آئے اور ملک ترقی کے راستے پر گامزن ہوسکے۔
یقینا کوئی راستہ نکل سکے گا بلکہ نکل آئے گا۔ اس سلسلے میں کسی قسم کی تاخیر نہیں ہونی چاہیے کیونکہ ایک طرف ملک کے اندر بعض عناصر ایسے بھی موجود ہیں جو اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لئے اسٹیبلشمنٹ کو بدنام کررہے ہیں۔ تو دوسری طرف ان عناصر کی یہ دلی خواہش ہے کہ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کسی قسم کا سمجھوتہ نہ ہونے پائے۔اس قسم کی سوچ کے حامل شریف خاندان ہے۔ جو درپردہ سازشوں کے لئے بہت مشہور ہیں‘ حالانکہ اس خاندان نے اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے جومراعات حاصل کی ہیں‘ اس کی ایک طویل فہرست ہے ‘ جس کا اس مختصر کالم میں گنجائش نہیں ہے۔ اب بھی جبکہ8فروری کے عام انتخابات میں شریف خاندان کو عبرتناک شکست ہوئی ہے۔لیکن اس کے باوجود وہ اقتدار سے چمٹے ہوئے ہیں۔ حالانکہ ان سے ملک کے معاملات سنبھل نہیں پارہے ہیں۔ قرضہ لے کر ملک کو چلانے کی کوشش کی جارہی ہے‘ حالانکہ اب قرضہ دینے والے ممالک انہیں قرضے دینے کے لئے تیارنہیں ہیں۔کیونکہ انہیں اب احساس ہوچکاہے کہ یہ قرضہ بہت کم عوام پر خر چ کیاجاتاہے‘ باقی کرپشن کی نذر ہوجاتاہے جس سے پاکستان کے عوام اچھی طرح واقف ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ کون سے سیاستداں ہیں جوان سے قرضوں سے مستفید ہوتے ہیں۔
چنانچہ میرے خیال کے مطابق عمران خان اوراسٹیبلشمنٹ کے درمیان فی الفور بات چیت ہونی چاہیے تاکہ ملک کو موجودہ معاشی وسیاسی بحران سے نکالاجاسکے۔ میراتعلق اس خاندان سے ہے جواپنا سب کچھ لٹاکر پاکستان آئے تھے اور اپنی تعلیمی صلاحیتوں کی روشنی میں اس ملک کو مستحکم کرنے میں اپناکردارادا کیاتھا‘ تاہم جو لوگ ملک کو موجودہ کیفیت میں رکھناچاہتے ہیں‘ وہ کسی بھی طرح ملک سے مخلص نہیں ہیں۔ ملک ذاتی پسند یا نا پسند کی بنیاد پر نہیں چلتاہے‘ ملک آئین اور قانون کی بالادستی سے چلتاہے ‘ اور عدل وانصاف کے اطلاق سے بھی۔ جس کی وجہ سے عوام کے دلوں میں وطن کے لئے محبت جاگزیں ہوتی ہے۔
چنانچہ میں اپنے اس کالم کے ذریعے بڑے ادب کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ سے گزارش کررہاہوں کہ عمران خان کے ساتھ بات چیت کا فی الفور آغاز ہوناچاہیے۔ عمران خان کی جانب سے محمود خان اچکزئی کو اس مقصد کے لئے نامزد کیاجاچکاہے تاکہ گلشن کاروبار تمام تر حسن کے ساتھ رواں دواں ہوسکے۔ اس سلسلے میں بعض عناصر یہ کہتے ہیں کہ عمران خان نے فوج سے متعلق مثبت گفتگو نہیں کی ہے ۔ خصوصیت کے ساتھ آرمی چیف سے متعلق۔ لیکن عمران خان نے دوٹوک الفاظ میں کہاہے کہ ایسا نہیں ہے۔ میں نے تنقیدضرور کی ہے جوکہ بحیثیت ایک سیاست داں کے میری اپنی رائے تھی لیکن فوج کو برا بھلا کہنا میرا انداز گفتگو کبھی نہیں رہاہے۔ماضی میں جوکچھ بھی ہوا وہ دونوں طرف سے ایک ردعمل تھا‘ لیکن اس کامطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ آپس میں کسی قسم کی دشمنی یا ناچاقی ہے‘ میری پارٹی فوج کابہت احترام کرتی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔ کیونکہ پاکستان کے مادی وجود کی طاقت فوج اور عوام کے درمیان مکمل اتحاد سے وابستہ وپیوستہ ہے۔
چنانچہ پاکستان کے عوام کی ا کثریت عمران خان اور فوج کے درمیان دوستی اور تعاون دیکھنا چاہتے ہیں ۔ کیونکہ پی ٹی آئی ملک کی سب سے بڑی اور مقبول جماعت ہے‘ عوام خصوصیت کے ساتھ نوجوان عمران خان سے بے پناہ عقیدت ومحبت کرتے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے ماضی میں ایسے کام انجام دیئے ہیں جس سے ملک کانا م روشن ہوا ہے۔ عمران خان کے فلاحی اور تعلیمی شعبے میں کام اس بات کی روشنی دلیل ہے کہ وہ ملک کو ایک ترقی یافتہ ممالک کی صفوں میں دیکھناچاہتے ہیں۔ جو دراصل بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا خواب تھا۔ عمران خان کا تمام سرمایہ پاکستان میں ہے نہ کہ باہر جیسا کہ شریف خاندان اور زرداری خاندان کا۔
اس لئے موجودہ سیاسی ومعاشی حالات کاتقاضا ہے کہ اسٹیلبشمنٹ اور عمران خا ن کے درمیان مذاکرات کے ذریعے پاکستان کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لئے مزید کسی قسم کی دیرنہیں ہونی چاہیے۔ کیونکہ پاکستان دشمن عناصر ملک کے اندر اداروں سے متعلق غلط فہمیاں پیداکرکے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس صورتحال کا تدراک صرف اس صورت میںمضمر ہے کہ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ مل بیٹھ کر ملک کے معاملات کو سدھارنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ پاکستان کوآئین اور قانون کی روشنی میں چلا کر عوام کودرپیش مسائل کوحل کیاجاسکے۔ ذراسوچیئے۔
(بشکریہ اوصاف)