Gas Leakage Web ad 1

ہم صرف ایک نتھنے سے ہی سانس کیوں لیتے ہیں؟ اس اسرار کا راز جانیں

ہم صرف ایک نتھنے سے ہی سانس کیوں لیتے ہیں؟ اس اسرار کا راز جانیں

0

کیا آپ نے کبھی انسانی جسم کے اس عجیب اسرار پر غور کیا ہے جو آپ کی ناک کے سامنے ہوتا ہے مگر کوئی توجہ نہیں دیتا؟ اگر آپ بیمار نہیں اور ناک کھلی ہے تو ایک گہری سانس لیں اور غور کریں، آپ کو اندازہ ہو گا کہ ایک نتھنا ہی سانس کو کھینچ رہا ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

اس سے پہلے کہ آپ پریشان ہوں یا سوچیں کہ یہ کوئی بیماری ہے، جان لیں کہ یہ ہمارے جسم کا بالکل معمول کا عمل ہے۔ ایسا دن بھر میں متعدد بار ہوتا ہے اور ہمیں اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔

پاکستان میں توانائی بحران کا خدشہ ختم، پیٹرول سے بھرے جہاز پورٹ قاسم پہنچنا شروع

ہمارے نتھنے قدرتی طور پر ہوا کے بہاؤ کے لیے کسی ایک میں منتقل ہو جاتے ہیں اور اسے "نیسل سائیکل” (Nasal Cycle) کہا جاتا ہے، جو ناک کی صحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جب ہم بیدار ہوتے ہیں تو ہمارا جسم ہر 2 گھنٹے میں سانس لینے والے نتھنے کو تبدیل کر دیتا ہے۔ البتہ نیند کے دوران ایسا کم ہوتا ہے کیونکہ سانس لینے کی رفتار گھٹ جاتی ہے۔

اس عمل کے دوران ایک نتھنے سے ہوا کا بہاؤ کم ہو جاتا ہے جبکہ مخالف نتھنا کھل جاتا ہے اور زیادہ ہوا وہاں سے گزرنے لگتی ہے۔ چونکہ وقت کے ساتھ ہوا خشک ہونے لگتی ہے اور جراثیم ناک کے خلیات سے رابطے میں آ سکتے ہیں، اس لیے کچھ وقت بعد سانس لینے والا نتھنا بدل جاتا ہے۔ یہ پورا عمل خودکار ہوتا ہے اور ہمارا دماغ اسے کنٹرول کرتا ہے۔

تحقیقی رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ جب دایاں نتھنا سانس لے رہا ہوتا ہے تو جسم زیادہ چوکنا یا تناؤ کی حالت میں ہوتا ہے، مگر جب بایاں نتھنا اس کی جگہ لیتا ہے تو جسم زیادہ پرسکون ہو جاتا ہے۔

یہ قدرتی عمل کئی وجوہات کی بنا پر بہت اہم ہے۔ پہلی وجہ یہ کہ اس سے ناک اور نظام تنفس کو تحفظ ملتا ہے۔ ہمارے جسم سے روزانہ کم از کم 12 ہزار لیٹر ہوا گزرتی ہے اور یہ قدرتی عمل جراثیموں کے خلاف دفاعی کردار ادا کرتا ہے۔

اسی طرح اس عمل سے ناک کو آرام اور مرمت کرنے کا موقع ملتا ہے جبکہ ناک کی شریانوں میں خون کا بہاؤ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اس سے نتھنوں کی نمی برقرار رہتی ہے اور مرمت کا عمل تیزی سے مکمل ہوتا ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.