نامور پاکستانی اداکار اور ٹی وی میزبان فہد مصطفیٰ نے کہا ہے کہ وہ مغرور نہیں ہیں اور نہ ہی ٹام کروز یا شاہ رخ خان ہیں، البتہ اپنے اردگرد کے لوگوں سے زیادہ مقبول ضرور ہیں۔
فہد مصطفیٰ پاکستان کے معروف ٹی وی اور فلمی اداکار ہیں جنہیں ان کی اداکاری اور مقبول گیم شو "جیتو پاکستان” کی میزبانی کے باعث بے حد پسند کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں کامیاب ترین ڈرامے "کبھی میں کبھی تم” میں اداکارہ ہانیہ عامر کے ساتھ ان کی جوڑی کو بے حد سراہا گیا۔
کانٹینٹ کے نام پر سب اپنی فیملی بیچ رہے ہیں، فہد مصطفیٰ کی ٹک ٹاکرز پر تنقید
حال ہی میں اداکار اپنی آنے والی فلم "آگ لگی بستی میں” کی تشہیر کے لیے صحافی ملیحہ رحمان کے یوٹیوب شو میں شریک ہوئے جہاں انہوں نے اپنے بارے میں پھیلنے والے غرور کے تاثر پر بات کی۔
فہد مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ "میں مغرور نہیں ہوں، میں بس اتنا سمجھدار ہوں کہ مجھے معلوم ہے کہاں کھل کر بات کرنی ہے اور کہاں خود کو محدود رکھنا ہے۔ اگر لوگ اسے غرور سمجھتے ہیں تو سمجھیں، یہ میرا حق ہے۔”
انہوں نے کہا کہ اگر انہیں لگے کہ ان کی اور سامنے والے کی سوچ یا ماحول نہیں مل رہا تو وہ خاموش ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "لوگ مجھے جانتے ہیں لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ میں نظر انداز ہو جاتا ہوں۔”
ٹی وی میزبان نے کہا کہ وہ اکثر تقریبات میں نہیں جاتے کیونکہ لوگ پہچان لیتے ہیں اور پھر وہ ایک مسئلہ بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا "میں یہ نہیں کہہ رہا کہ میں ٹام کروز یا شاہ رخ خان ہوں، لیکن کبھی کبھی لوگوں سے ملنا تھکا دینے والا ہو جاتا ہے۔”
فہد مصطفیٰ نے کہا کہ وہ اتنی غلطیاں نہیں کرتے جتنی ان کے اردگرد کے لوگ کر دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "میں مانتا ہوں کہ میں اتنا اہم اور مقبول ہوں کہ لوگ اپنے انٹرویوز میں میرا ذکر کرنا پسند کرتے ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ مشہور شخصیات ہر شو میں میرا ذکر کیوں کرتی ہیں، لیکن مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں بلکہ فخر محسوس ہوتا ہے۔”
انہوں نے یہ بھی کہا کہ "میں تعریف سے ڈرتا ہوں کیونکہ جب زیادہ تعریف ہو جائے تو لوگ یہی سوچنے لگتے ہیں کہ اب مجھے دوبارہ کیسے نیچے لایا جائے۔”