ترجمان دفترخارجہ طاہر حسین اندرابی نے پاکستان کی شیعہ برادری کے حوالے سے بھارتی وزارت خارجہ کے بیان کو مسترد کر دیا ہے۔
ان کے مطابق بھارتی بیان حقائق سے توجہ ہٹانے کی مذموم کوشش ہے اور پاکستانی شیعہ برادری سے متعلق تشویش کا اظہار حقیقت سے انحراف ہے۔ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ بھارت کے ایسے تبصرے اُس کے اپنے ریکارڈ کو نہیں چھپا سکتے۔
بلوچستان کے 10 اضلاع میں دفعہ 144 نافذ،اسلحہ کی نمائش پر مکمل پابندی
ترجمان کے مطابق بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک اور تشدد معمول ہے۔ انڈیا میں عبادات پر پابندی سے لے کر ہجوم کے خود ساختہ انصاف جیسے واقعات عام ہیں، اور گھروں و روزگار کو نشانہ بنانے کے رجحانات کے دستاویزی شواہد موجود ہیں۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ بھارت میں ہجوم کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات نہایت قابل نفرت ہیں، اور یہ واقعات ایسے ماحول کی عکاسی کرتے ہیں جہاں بے قابو درندگی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے بھارت سے کہا کہ وہ مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر برادریوں کا تحفظ یقینی بنائے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ 2025 میں مبینہ طور پر 55 سے زائد مسلمانوں کو ہجوم نے قتل کیا، جبکہ جنوری 2026 سے اب تک 19 سے زیادہ مسلمان پرتشدد ہجوم کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں۔ انتہاپسند گروہوں نے غیر قانونی طور پر 11 مساجد کو مسمار کرنے کی کوشش کی۔ بھارت کو دوسروں کے بارے میں بے بنیاد اور سیاسی مقاصد پر مبنی بیانات دینے سے گریز کرنا چاہیے۔