اسلام آباد: پاکستان کو توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور نظام کی بہتری کے لیے عالمی بینک سے 10 ارب 70 کروڑ روپے کے قرضے کی منظوری کا امکان ہے۔ اس منصوبے میں ایشیئن انفراسٹرکچر بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک بھی معاونت فراہم کریں گے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا صوبے میں 28 مارچ کو “ارتھ آور” منانے کا اعلان
دستاویزات کے مطابق منصوبے کے تحت پاکستان میں بجلی کے نظام میں بلوں کی کم وصولی، سسٹم نقصانات اور ٹرانسمیشن رکاوٹوں کے مسائل پر توجہ دی جائے گی۔ عالمی بینک نے پاور سیکٹر میں چوری اور دیگر بنیادی مسائل کی نشاندہی بھی کی ہے۔
مجوزہ منصوبے کی مجموعی مالیت تقریباً 70 کروڑ ڈالر ہے اور یہ 2026 سے 2035 تک 10 سالہ پروگرام کا حصہ ہے۔ منصوبے میں مٹیاری سے رحیم یار خان تک 500 کے وی کی بڑی ٹرانسمیشن لائن بچھانے، بیٹری اسٹوریج، نئی ٹرانسمیشن لائنیں اور این ٹی ڈی سی میں اصلاحات کے لیے تکنیکی معاونت شامل ہے۔
عالمی بینک کا مقصد پاکستان میں بجلی کی فراہمی کو زیادہ قابل اعتماد بنانا، نجی شعبے کی شمولیت کو فروغ دینا اور توانائی کے اداروں میں گورننس بہتر بنانا ہے۔