بے روزگاری کا دور اکثر انسان کے لیے ذہنی دباؤ اور مایوسی کا سبب بن جاتا ہے۔ اس عرصے میں انسان کے ذہن میں مختلف خدشات اور منفی خیالات پیدا ہونے لگتے ہیں اور جو وقت بظاہر خالی نظر آتا ہے وہ دراصل فکر اور پریشانی سے بھر جاتا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق اگر اس وقت کو درست انداز میں استعمال کیا جائے تو یہی مرحلہ مستقبل میں بہتر مواقع حاصل کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
عرب میگزین میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق بے روزگاری کا زمانہ دراصل اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے اور نئے روابط قائم کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ تعلقات عامہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عرصے کے دوران پیشہ ورانہ نیٹ ورک کو وسیع کرنا بہت فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
امریکا میں لاکھوں ملازمتوں کے دروازے کھل گئے؛ کون کون سے شعبے شامل ہیں
ماہرین کے مطابق اکثر افراد اپنی سابقہ ملازمت یا پرانے ساتھیوں سے رابطہ کم کر دیتے ہیں، حالانکہ پیشہ ورانہ تعلقات کو دوبارہ بحال کرنا نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا اہم کردار ادا کر سکتا ہے کیونکہ ممکن ہے کہ ماضی میں آپ کے ساتھ کام کرنے والا کوئی شخص کسی نئی کمپنی میں بہتر عہدے پر فائز ہو اور وہ آپ جیسے پیشہ ور افراد کی تلاش میں ہو۔
ڈیجیٹل دنیا میں فعال رہنا بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اگر آپ کے شعبے سے متعلق کسی جگہ بحث یا گفتگو ہو رہی ہو تو اس میں حصہ لینا مفید ہو سکتا ہے۔ بظاہر معمولی نظر آنے والی یہی گفتگو بعض اوقات ایسے لوگوں تک رسائی کا ذریعہ بن جاتی ہے جو نئے مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق رضاکارانہ سرگرمیوں میں حصہ لینا بھی بے روزگاری کے دوران ایک مثبت مصروفیت ثابت ہو سکتا ہے۔ سماجی اداروں کے ساتھ کام کرنے سے نہ صرف انسان مصروف رہتا ہے بلکہ مختلف لوگوں اور اداروں سے تعارف بھی بڑھتا ہے، جس کے نتیجے میں نئی ملازمت کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح مقامی سطح پر ہونے والی کانفرنسوں اور سیمینارز میں شرکت بھی فائدہ مند ہوتی ہے کیونکہ وہاں اپنی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے اور نئے رابطے بنانے کا موقع ملتا ہے۔
ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ بے روزگاری کے دوران خود کو دوسروں سے الگ تھلگ نہیں کرنا چاہیے۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں سے ملاقاتیں کرنا اور اپنی فیلڈ سے وابستہ افراد سے رابطہ رکھنا اہم ہوتا ہے۔ کئی ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں ایک عام سی ملاقات یا غیر رسمی گفتگو بعد میں ملازمت کے موقع کا سبب بن گئی۔
اس دوران نئی مہارتیں سیکھنا بھی نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ آن لائن مختصر کورسز یا جدید ٹیکنالوجی سے متعلق تربیت پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کر سکتی ہے اور انسان کو نئی ملازمت کے لیے ایک مضبوط امیدوار بنا سکتی ہے۔ اسی طرح اپنے سی وی کا دوبارہ جائزہ لینا اور اسے موجودہ تقاضوں کے مطابق اپ ڈیٹ کرنا بھی ضروری قرار دیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق صحت مند طرز زندگی بھی اس مرحلے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ باقاعدگی سے ورزش کرنے سے جسمانی توانائی برقرار رہتی ہے اور ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ روزمرہ کے معمولات کو منظم رکھنا، مناسب نیند لینا اور دن کے لیے واضح اہداف مقرر کرنا بھی انسان کو منظم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
بے روزگاری کے دوران کسی اچھے مشغلے کو اپنانا، کتابیں پڑھنا اور خاندان و دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا بھی ذہنی سکون کا باعث بنتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر ممکن ہو تو اپنی صلاحیتوں کے مطابق آن لائن کام یا فری لانسنگ بھی کی جا سکتی ہے جس سے نہ صرف کچھ آمدنی حاصل ہو سکتی ہے بلکہ نئے لوگوں سے رابطے بھی قائم ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ عرصہ خود احتسابی اور ذاتی بہتری کے لیے بھی ایک بہترین موقع ہو سکتا ہے۔ اگر انسان اس دوران اپنے مالی معاملات کو بہتر طریقے سے منظم کرے، غیر ضروری اخراجات کم کرے اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر توجہ دے تو بے روزگاری کا یہی دور مستقبل میں کامیابی کی بنیاد بن سکتا ہے۔