اسلام آباد: سپریم کورٹ میں بیرون ملک بھیجنے کا جھانسہ دے کر شہری سے رقم وصول کرنے والے ملزم کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس کے دوران عدالت کا متاثرہ شہری کے ساتھ دلچسپ مکالمہ بھی ہوا۔
شرح سود کے تعین کے لیے اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس جاری
دوران سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ ملزم نے کتنی رقم وصول کی تھی؟ اس پر وکیل مدعی نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے شہری سے ساڑھے 17 لاکھ روپے وصول کیے تھے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے متاثرہ شہری سے مخاطب ہوتے ہوئے پوچھا کہ کس ملک جانے کے لیے پیسے دیے تھے؟ شہری نے بتایا کہ یونان جانے کے لیے رقم ادا کی تھی۔
اس موقع پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ "یونان جا کر تم نے دربدر ہی ہونا تھا، جوان آدمی ہو، بہتر ہے یہیں محنت مزدوری کرو۔” انہوں نے مزید کہا کہ کشتیوں کے ذریعے بیرون ملک جاتے ہوئے کئی لوگ مر بھی جاتے ہیں۔
عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ملزم نے رقم لینے کے بعد شہری کو بیرون ملک بھجوایا؟ وکیل مدعی نے بتایا کہ نہ تو شہری کو بیرون ملک بھجوایا گیا اور نہ ہی رقم واپس کی گئی۔ ان کے مطابق ملزم کی جانب سے دیے گئے چیک بھی باؤنس ہو گئے اور چیک باؤنس ہونے کے الگ سے مقدمات درج کروائے گئے ہیں۔
دوران سماعت وکیل ملزم نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ میں یہ ان کا پہلا مقدمہ ہے، تیاری کے لیے مہلت دی جائے۔ اس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ عدالت عید سے پہلے فیصلہ کر دے گی، اگر ضمانت بنتی ہوئی تو مل جائے گی ورنہ نہیں۔
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت آئندہ پیر تک ملتوی کر دی۔