خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 2018 سے 2022 تک پورے صوبے میں امن قائم رہا، تاہم رجیم چینج کے بعد حالات خراب کیے گئے۔
پاکستان اسٹیل ملز کے اثاثے چوری ہونے لگے، چوری سے بچانےکیلئے بعض اثاثوں کی نیلامی کا فیصلہ
ہری پور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے بتایا کہ تیراہ میں برف باری کے بعد لوگ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور تمام جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کا مؤقف ہے کہ آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں۔ دیرپا امن کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ جامع اور مستقل پالیسی ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے موجودہ مسائل کی بنیادی وجہ بند کمروں میں کیے جانے والے فیصلے ہیں اور موجودہ حالات انہی کے پیدا کردہ ہیں۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ ہمیں تعلیم کے بجائے پہلے بندوق دی گئی تھی، لیکن اب قلم کی ضرورت ہے، معیشت تباہ ہے، بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور نوجوان بیرون ملک جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔