اسلام آباد: سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ ٹرمپ نے ہمیں ایک پلیٹ فارم فراہم کیا ہے اور بورڈ آف پیس صرف غزہ تک محدود نہیں۔
بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پر پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پارلیمنٹ سروس میں یوم سیاہ کے نام سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت میں اس وقت بہت تہلکہ مچا ہوا ہے اور بھارت بے چین ہے کہ پاکستان نے پیس آف بورڈ میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔
موثر کسٹمز انفورسمنٹ کی بدولت پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں اضافہ
مشاہد حسین سید نے کہا کہ کشمیر اور فلسطین وہ دو ریاستیں ہیں جو پاکستان کی پالیسی میں شامل ہیں اور پاکستان 2026 میں اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل کا بھی رکن ہے، جس کے ذریعے کشمیر کاز کو پروموٹ کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کے بھارت میں آر ایس ایس ایک اسٹیٹ ہے جو فاشزم کی جماعت ہے، اور ہندوستان ایک نظریاتی ریاست ہے جس کا نظریہ ہندوتوا ہے۔
حریت رہنما الطاف احمد وانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پہلی بار دنیا میں پیس میکر کے طور پر ابھرا ہے اور حکومت کا فیصلہ سیاسی، عسکری اور بیوروکریسی کی مشاورت سے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر ملنے والے موقع کو کیش کرنا وقت کی ضرورت ہے اور حکومتی فیصلے کو عوام اور انٹلیکچول کلاس کی مکمل حمایت حاصل ہونی چاہیے۔ ذاتی ناپسند کو بالائے طاق رکھ کر قومی مفاد کی سپورٹ ضروری ہے، کیونکہ پاکستان آج ٹیبل پر ہے، مینیو میں نہیں۔
الطاف احمد وانی نے کہا کہ خطے میں سب سے بڑا اور اہم تنازعہ مسئلہ کشمیر ہے اور کشمیر ایشو ایک بار پھر عالمی لائم لائٹ میں آ رہا ہے، جس سے بھارت پریشان نظر آ رہا ہے۔
سیمینار میں چیئرمین کشمیر کمیٹی رانا قاسم نون، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق سمیت دیگر رہنما بھی شریک ہوئے۔