اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ میں سول کیس کی سماعت کے دوران وکلاء کی ہڑتال کا معاملہ سامنے آ گیا۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی عدالت میں ایک کیس کی سماعت کے دوران وکیل قیصر عباس گوندل ایڈووکیٹ نے بتایا کہ آج بار کی جانب سے ہڑتال کی کال دی گئی ہے، اس کیس میں سیکرٹری بار نے بھی پیش ہونا تھا لیکن ہڑتال کے باعث وہ عدالت میں حاضر نہیں ہوئے، میں اپنی جانب سے کیس میں پیش ہوا ہوں تاہم سیکرٹری بار منظور ججہ پیش نہیں ہوئے۔
آزاد کشمیر: وادی نیلم میں برفباری، وادی لیپا کا رابطہ ضلعی ہیڈ کوارٹر ہٹیاں بالا سے منقطع
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے استفسار کیا کہ آج ہڑتال کس بات پر ہے، میری عدالت میں تو تمام فریقین پیش ہو رہے ہیں، جس پر وکیل قیصر عباس گوندل ایڈووکیٹ نے بتایا کہ بار کے وکلاء کی گرفتاری کے خلاف آج ہڑتال کی گئی ہے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے سوال کیا کہ کون سے وکلاء گرفتار ہوئے ہیں، جس پر وکیل نے بتایا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو گرفتار کیا گیا ہے۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ کیا آپ انہیں وکلاء سمجھتے ہیں، جس پر وکیل خاموش رہے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ اگر آپ انہیں وکلاء سمجھتے ہیں تو چیمبر میں آ کر اپنی رائے دے سکتے ہیں۔ وکلاء کی ہڑتال کے باعث کیس کی سماعت میں کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔