جماعت اسلامی نے پشاور اور خیبر پختونخوا کے عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے “حق دو پشاور کو” تحریک کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ تحریک کے اعلان کے موقع پر پریس کلب پشاور میں جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے حکومت کی پالیسیوں، کرپشن اور ناقص حکمرانی پر شدید تنقید کی۔ اس موقع پر پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں صوبائی جنرل سیکرٹری اور سابق رکن قومی اسمبلی صابر حسین اعوان، سابق صوبائی وزیر کاشف اعظم خلیل، حافظ حشمت خان اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔
پاکستانی شہریوں کی اوسط آمدن میں اضافہ، ذاتی ملکیت گھروں میں کمی ریکارڈ
پریس کانفرنس کے دوران صابر حسین اعوان کو تحریک کا سرپرست اعلیٰ جبکہ کاشف اعظم خلیل کو تحریک کا صدر مقرر کرنے کا اعلان کیا گیا۔ خطاب کرتے ہوئے صابر حسین اعوان نے کہا کہ گزشتہ تیرہ برسوں سے صوبے میں ایک ہی سیاسی جماعت کی حکومت ہے مگر عوام کو ان کے بنیادی حقوق نہیں مل سکے اور صوبہ بدامنی، بے روزگاری اور معاشی بحران کا شکار ہے۔
سابق صوبائی وزیر کاشف اعظم خلیل نے کہا کہ ایمانداری کے لبادے میں چھپے عناصر کو 13 سالوں میں ہونے والی 8400 ارب روپے کی کرپشن کا حساب دینا ہوگا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبہ اس وقت بدترین کرپشن کی آماجگاہ بن چکا ہے اور حکمران عوام کو جھوٹے دعوؤں سے گمراہ کر رہے ہیں۔ جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے اعلان کیا کہ “حق دو پشاور کو” تحریک کے تحت گراس روٹ لیول پر عوام کو منظم کیا جائے گا اور پرامن، آئینی اور جمہوری جدوجہد کے ذریعے پشاور اور خیبر پختونخوا کے عوام کو ان کے غصب شدہ حقوق دلانے کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کی جائے گی۔